Slider

Menu :

Latest News

WordPress Per Website Banayen

Blogroll

Pages

Animation Trailers

top header advertisement in header

Pak Urdu Installer

Text Widget

Recent news

Video Widget

Recent Tube

Wisata

News Scroll

Favourite

Event

Culture

Gallery

چنگھائی-تبت ریلوے۔شاندار منصوبہ

تازہ اطلاعات کے مطابق چین اور پاکستان ایک مشترکہ منصوبے کے تحت گوادرپورٹ کو ایک بڑا روڈ دینا چا ہ رہے ہیں‌جو چین تک جائے گا۔ اس بڑے منصوبے کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے دونوں‌ممالک نے ہر طرح‌کے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ مگر آج ہم چین کے اندر ہی دنیا کے سب سے  بلند  ریلوے منصوبے کی تفصیلات دیکھتے ہیں۔ 
چنگھائی( گلمود)سے تبت(لہاسا) تک کایہ ریلوے ٹریک دنیا کا ایک عجوبہ ہے ، کیونکہ تبت جیسے دشوار گزار علاقے میں‌ریلوے کا یہ ٹریک بچھانا چین کے ذہین انجینئروں‌کے کمال فن کا شاہکارہے۔اس ریلوے لائن کی مکمل لمبائی 1،956 کلومیٹر (1،215 میل) ہے۔چین کے صوبے Xining اور Golmud کے درمیان 815 کلومیٹر (506)  میل کا پہلا ریلوے ٹریک  1984میں مکمل کیا گیا تھا۔جبکہ1،142 کلومیٹر کےفاصلے پر مشتمل (710 میل کا یہ دوسرا ٹریک Golmud اور لہاسا کی طرف تعمیر کیا گیا اور اس کا افتتاح 1 جولائی، 2006 کو چینی صدر ہو جن تاؤنے کیا۔ (نقشہ دیکھیں)

اس ٹریک  (گلمود سے لہاسا) ) پر چلنے والی سب سی پہلی دو مسافر ٹرینوں‌کے نام  "کنگ 1" (Q1)، اور  "جھانگ 2" (J2). [1] رکھے گئے تھے۔ 
تبت کے علاقے کو کسی بھی چینی صوبے کے ساتھ مربوط  کرنے کا یہ پہلا منصوبہ تھا۔ تبت جو کہ ایک خود مختار علاقہ ہے ، اس میں بہت زیادہ پہاڑ ہونے کی وجہ سے یہ ایک مشکمل منصوبہ تھا۔ 
ٹینگولا درہ Tanggula Pass  اس ریلوے ٹریک پر واحد ریلوے اسٹیشن ہے جو سطح سمند ر سے  5.072 میٹر (16،640 فٹ) اوپرہے۔ اور یہ ریلوے اسٹیشن دنیا کا بلند ترین  اسٹیشن ہے .

گلمود سے لہاسا کے درمیان 45 ریلوے اسٹیشنوں کا جال بچھایا گیا ہے ، جن میں سے 38 کی نگرانی Xining کے  کنٹرول سینٹر  سے کی جاتی ہے۔ تیرہ مزید اسٹیشنوں کی منصوبہ بندی جاری ہے۔
ٹرین کے اندر تیز ترین موبائل اور انٹرنیٹ کی دستیابی

مزید پڑھیئے۔ خنجراب کو دنیا کی چھت کیوں کہا جاتا ہے ؟ (یہاں کلک کرکے پڑھیں)
دنیا کے بلند ترین مقامات (یہاں کلک کرکے پڑھیں)

Oldest Stone Forest in Kunming - China

چائنا کے جنوب مغربی صوبے یونان(Yunnan) کے دارالحکومت کومنگ (Kunming)کی خوبصورتی اور معتدل آب ہوا کے بہت چرچے ہیں ۔ سیاحوں کے لیے کومنگ میں بہت کچھ موجود ہے مگر سب سے زیادہ اہمیت اور خصوصیت کے حامل’’پتھر کے جنگلات‘‘ہیں۔ چائنہ کے ان پتھر کے جنگلات کی تاریخ پوری دنیا میں سب انمول جگہوں سے قدیم ہے۔

کہاجاتا ہے کہ چائنہ کے منگ (Ming)خاندان سے بھی پہلے کے یہ پتھر کے جنگلات موجود ہیں، منگ کی تاریخ (1368-1644 AD) بتائی جاتی ہے۔

سفر کے وسائل

پتھر کے یہ جنگلات کومنگ سے صرف ایک سو بیس کلومیٹر کی دوری پر موجود ہیں جہاں پہنچنے کے لیے تین گھنٹے کی ڈرائیونگ کرنی ہوتی ہے۔پتھر کے ان جنگلات کو مقامی زبان میں شلن (Shilin)کہا جاتا ہے۔ پتھر کے جنگلات کا یہ علاقہ چار سومربع کلومیٹر پر پھیلا ہو ا ہے جس میں چھوٹے اور بڑے سائز کے پتھر کے جنگلات موجود ہیں۔

پتھر کے ان جنگلات کے سحر سے آپ کتنی دیر میں نکلتے ہیں؟ مگر مجموعی طور پر دوگھنٹے میں آپ اس علاقے کو ایک نظر دیکھ سکتے ہیں۔ 

آشیما Ashima کی کہاوت

بزرگ لوگوں سے ایک کہانی ان پتھروں کی مشہور ہے کہ ،یہ پتھر جنگلات آشیماAshima(چینی نام)کی جائے پیدائش ہیں۔ جب وہ لڑکی جوان ہوئی اور ایک شخص کی محبت میں گرفتار ہوئی تو بجائے اس کی شادی کرنے کے، اس سزا کے طور پر پتھر میں تبدیل کر دیا گیا۔


چین کے اس علاقے کی ایک مشہور پرانی کہاوت ہے کہ’’ اگر آپ کومنگ آئے اور بغیر پتھرکے جنگلات دیکھے چلے گئے ، تو آپ نے وقت برباد کیا۔ کیونکہ یہ بلاشبہ ایک خوبصورت اور پرکشش مقام ہے۔ 


پتھرکے یہ جنگلات بڑے حسین ہیں۔ ان جنگلات میں جنگلی پودے سے لیکر ایک بہت بڑے پہاڑ کے قد کے پتھر کے بنے تراشے موجود ہیں۔ نرم پتھر اور سخت ترین پتھر بھی موجود ہے، انسان ، حیوان ، درخت کی طرز پر بھی ان پتھروں کی سحر زدہ تصاویر نظر آتی ہیں۔ 

پتھر کے جنگلات کے بارے سائنس کیا کہتی ہے۔

ماہر ارضیات سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لاکھوں سال پہلے یہ علاقہ زیر سمندر تھا۔ سمندر بھی اس وقت شدید نمکین ہوتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جوں جوں پانی کا اتار کم ہوا اورزمین باہر آئی تو یہ علاقہ بھی وجود میں آیا ۔ یوں پتھر کے جنگلات دراصل سمندر کے نمکین پہاڑ ہیں جو زمین پر رہ گئے۔ 




دنیا میں میں ایسا کوئی اور پہاڑ کہیں بھی موجود نہیں ہے ، گویا یہ چائنہ کے لیے ایک خزانہ ہے جسے وہ بلاشبہ قدرت کا انمول تحفہ کہہ سکتے ہیں۔