Slider

Menu :

Latest News

WordPress Per Website Banayen

Blogroll

Pages

Animation Trailers

top header advertisement in header

Pak Urdu Installer

Text Widget

Recent news

Video Widget

Recent Tube

Wisata

News Scroll

Favourite

Event

Culture

Gallery

بحیرہ روم اور اسکی مشہور بندرگاہیں

بحیرہ روم کی تاریخ

میں جب بھی تاریخ کی ورق گردانی کرتا ہوں مجھے خشکی کے بعد سب سے زیادہ متاثر پانی کے اس خطے نے کیا ہے، جسے ہم بحیرہ روم یا Mediterranean Sea کے نام سے نقشوں پر دیکھتے ہیں۔ اگر غور سے دیکھیں تو انسانی تاریخ میں قبل مسیح کی تمام اور بعد کی بھی تمامتہذیبوں کے مراکز بحیرہ روم کے ساحلوں کے     ارد گرد واقع تھے۔مشہورترین تہذیبوں میں مصری تہذیب، یونانی تہذیب، ایرانی تہذیب کے بعد ایک ہزار سالہ اسلامی تاریخ بھی قابل ذکر ہے ،اس کے علاوہ تاریخ کے بڑے بڑے روشن وہ تمام نام اسی زمین کی زرخیزی کے قدآور درخت تھے جن کے کارناموں سے آج تاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔قرآن مجید میں موجود 25 انبیاء ؑ  کا بھی واسطہ اور انکےجائے مقام سےقریب ترین سمندر یہی بحیرہ روم تھا۔
دراصل بحیرہ روم انسانی تاریخ میں کشتی کی ایجاد (جو الہامی طور پر ایک پیغمبر نے بنائی تھی)کے بعد تجارت کا سب سےبڑا مرکز بن گیا۔جوں جوں انسانی آبادی بڑھی،انسان مزید زہین اور جستجو میں مصروف ہوا تونئے اورانجانے علاقوں کی تلاش، جنگ و جدل،ماہی گیری اور دیگر سمندری غذا کے حصول کے لیے بحیرہ روم کو ہی استعمال کیا گیا۔ 
ارضیات دان بحیرہ روم کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ہزاروں سال قبل یہ بھی زمین یعنی خشکی کا ایک حصہ تھا۔یہاں بھی لوگوں کی وسیع آبادی موجود تھی۔ پھر   بحر اوقیانوس کی جانب سے ایک کمزور جگہ جسے ابھی جبرالٹر (درحقیقت یہ جبل الطارق کی بگڑی شکل ہے)کہا جاتا ہے وہاں سے پانی اس خطہ میں آنا شروع ہوا اور یہ تمام علاقہ بھی چھوٹا سمندر بن گیا۔
قبل از تاریخ کی عظیم الشان تہذیبوں کا دارومدار بھی اسی سمندر کی وجہ سے تھا اور آج کی تمام بڑی طاقتوں کا مرکز بھی یہی سمندرہے۔آج کی تمام تر دنیاوی معیشت کا دارومدار بھی بڑی حد تک بحیرہ روم سے ہے۔اگر ہم غور کریں تو جاپان،چین، ملائیشیا اور انڈیا جیسے تمام بڑے بڑے ملک اپنی مصنوعات کو بحری جہازوں میں بھر کر پوری دنیا میں فروخت کرتے ہیں۔ اور سمندر کے راستوں میں سب سے زیادہ مصروف راستہ یہی بحیرہ روم کا ہے ۔ کیونکہ ان تمام ایشیائی ممالک کا  سامان سمندری جہازوں پرچلتا ہوا ،افریقہ،یورپ اور امریکہ کواسی راستہ سے پہنچتا ہے۔تمام بڑے بحری جہازاسی خطہ سے ہو کرجاتےہیں۔ایسا لگتا ہےکہ یہ بحیرہ، سمندری مخلوق سے زیادہ انسان ہی کی خدمت کرتا آیا ہے۔ 

بحیرہ روم کا جغرافیہ

بحیرہ روم مکمل طور پر زمین(خشکی) سے گھرا ہوا ایک سمندر ہے جو بحر اوقیانوس سے بہتا ہے۔بحیرہ روم کوچاروں جانب سے خشکی نے گھیر رکھا ہے۔بحیرہ روم کے شمال میں یورپ اور اناطولیہ (ترکی) کا علاقہ لگتا ہے۔ اس کے جنوب میں شمالی افریقہ کے ممالک لیبیا، تیونس،الجیریااور مراکش کی سرحدیں ہیں۔ جبکہ بحیرہ روم کامشرقی علاقہ یا سرحد جو کہ ایک لمبی پٹی (200 کلومیٹر )کو لی ونٹ کہا جاتا ہے۔لی ونٹ دراصل مشرقی بحیرہ روم کی وہ پٹی نماخشکی کی سرحد ہے جس میں اسرائیل ،اردن ،لبنان ،شام اور ترقی کا بیشتر علاقہ شامل ہے۔بحیرہ روم کی آب و ہوا گرم اور خشک ہے۔  
بحیرہ روم کا رقبہ
بحیرہ روم کا کل رقبہ ڈھائی لاکھ(2،500،000 )مربع کلومیٹرہے۔بحرالکاہل سے جبرالٹرکے درہ کی لمبائی صرف 14 کلومیٹر ہے۔ بحیرہ روم کی سب سے گہری جگہ قریباً 5،267 میٹر پیمائش کی گئی ہے۔
بحیرہ روم کے چھوٹے سمندر 
بحیرہ روم کے کل علاقے میں مزید تین چھوٹے سمندر ہیں، جو بالترتیب،مالبوران سمندر، مار مراکا سمندر، بحراسود(Black Sea)  اور آگیان مشہور ہیں۔ مزید کی فہرست یہاں دیکھیں۔(لنک)
بحیرہ روم کے جزائر
بحیرہ روم میں مشہور جزائرکا نام یہ ہے۔قبرس سسلی،سردینیا، مالٹا (اسیر مالٹا۔کن کو کہا جاتا ہے ؟) وغیرہ مشہور ہیں۔ مزید کی فہرست یہاں دیکھیں۔ (لنک)

 لیونٹ کا علاقہ

بحیرہ روم سے ملحقہ بندرگاہیں

موجودہ بحیرہ روم کے ساتھ بائیس ممالک کی سرحدیں ملحقہ ہیں۔ ان ممالک کو آپ نقشہ میں دیکھ سکتے ہیں۔بحیرہ روم کے ان بائیس ممالک میں تقریباً ہر ایک ملک کی بندر گاہ بھی ہے، جبکہ کئی ممالک کی دو یا زیادہ بندرگاہیں بھی بحیرہ روم میں ہیں، جیسےکہ فرانس۔ مگر ہم ابھی بڑی مشہور بندرگاہوں کا تذکرہ کریں گے۔مشہور بندرگاہوں کی درجہ بندی کرنا بھی ایک مشکل کام ہے کیونکہ بندرگاہوں کی درجہ بندی میں کئی طرح کی درجہ بندی ممکن ہے، جیسے کہ مشہور ترین بندرگاہیں جو سیرو سیاحت کی وجہ سے مشہور ہیں۔ مشہور بندرگاہیں جوبحری جہازوں کے ساز وسامان کی وجہ سے مشہور ہیں۔ بہرکیف چندمشہور بندرگاہیں جو ہر طر ح کی درجہ بندی میں قابل ذکر ہیں،درج ذیل ہیں:۔  
پورٹ سعید۔
بلاشبہ پورٹ سیعد بحیرہ روم کی مشہور ترین بندر گاہ ہے یہ ملک مصر  میں ہے۔
اسکندریہ 
اسکندریہ مصر کی مشہور ترین بندرگاہ ہے۔یہ بندرگاہ تہذیبی لحاظ سے بھی مصر کے فراعین کے زمانے سے چلی آرہی ہے۔ بہت مشہور اوراہم بندر گاہ ہے۔
مارسیلی
مارسیلی فرانس کی اہم ترین بندرگاہ اور شہر ہے۔ 
ایتھنز
ایتھنز کی مشہور بندگار بھی اس درجہ بندی میں شامل ہے۔ اس بندر گاہ پر سیروسیاحت اور تجارت کےسینکڑوں بحری جہاز موجود رہتے ہیں۔ 

Atlas Mountains - Morocco

اٹلس پہاڑدنیا بھر میں‌پھیلے مشہور ترین پہاڑوں میںسے لمبائی میں چھٹے نمبر پر ہے۔ اس کی لمبائی 2،500 کلومیٹر (1،600 میل) ہے۔ اٹلس پہاڑ کی یہ پٹی  بحر اوقیانوس یعنی شمال مغربی افریکہ سے شروع ہوتی ہے۔ افریکہ کے عظیم صحرا صحارا کو یہ اٹلس پہاڑوں کی پٹی بحیرہ روم اور بحر اوقیانوس سے الگ کرتی ہے۔

اٹلس پہاڑوں کی ایک اہم خوبی یہاں کے جانور ہیں جو پوری دنیا میں‌اور کہیں بھی نہیں‌پائے جاتے ۔ان مخصوص جانوروں میں مشہور اٹلس کا ریچھ،بربرچیتا، بربربھیڑ، بربرہرن وغیرہ شامل ہیں۔ 

اٹلس پہاڑوں کی ارضیات اور قدرتی وسائل

ارضیات دانوں کا کہنا ہے کہ افریکہ میں زیر زمین اٹلس پہاڑ کی تہہ چار سے پانچ ارب سال پرانی ہیں۔ جبکہ موجودہ اٹلس پہاڑ کی تشکیل بہت بعد میں تین مراحل میں ہوئی تھی۔ ان تین مراحل کو بھی ہزاروں سال لگ گئے۔ ارضیات دانوں کا کہنا ہے کہ اٹلس پہاڑ کے اندر قدرتی وسائل کی وافر مقدار موجود ہے۔ اٹلس کوہ کے اندر قدرت نے بے شمار خزانے رکھ دیئے ہیں جن میں، تانبہ، چاندی، پارا، فاسفیٹ، ماربل، معدنی کوئلہ، لوہا اور قدرتی گیس شامل ہیں۔ 
A short introduction of Atlas Mountains, in Urdu


اٹلس پہاڑ کی تقسیم۔

اٹلس پہاڑوں کو مزید چار حصوں میں‌تقسیم کیا گیاہے، جس میں درمیانی اٹلس پٹی(مراکش)، بلند اٹلس پہاڑ(مراکش)، اٹلس پہاڑ کی مخالف پٹی (Anti Atlas)(مراکش)، اور صحارا اٹلس(الجیریا)،ٹیل اٹلس(مراکش، الجیریا)۔

اٹلس پہاڑ چونکہ تین ممالک میں پھیلا ہوا ہے اورشمال مغرب میں بحر اوقیانوس سے ابتدائ کرتا ہوا مشرق میں بحیرہ روم تک جاپہنچتا ہے۔ پہاڑکی لمبائی 2،500 کلومیٹر (1،600 میل) طویل ہے۔ یہ طویل لمبائی تین افریکی ممالک میں سے گزرتی ہے جن میں‌مراکش، الجیریااور تیونس تک جا پہنچتی ہے۔ درمیان میں بڑے بڑے ریگستان، علاقے، اور شہر آتے ہیں۔ 

درمیانی اٹلس پٹی
اٹلس پہاڑ کا یہ حصہ مکمل طور پر مراکش کے سرحد میں پڑتا ہے۔پہاڑ کایہ حصہ مولویا اور قوم ال ریبا دریائوں کے بیچ میں‌پھیلا ہوا ہے۔

ہائی اٹلس
ہائی اٹلس کو اس کی بلندی کی وجہ سے ئہ نام دیا گیاہے۔ اٹلس پہاڑ کی یہ پٹی مغرب میں بحراوقیانوس سے ابتدائ کرتے ہوئے وسطی مراکش سے ہوتے ہوئے الجیریا کی سرحد تک چلی جاتی ہے۔اٹلس پہاڑوں میں‌موجود چوٹیوں میں سب سے بڑی چوٹی توبکال پہاڑ کی ہے۔ توبکال پہاڑ کی بلندی4165 میٹر ہے۔ 

اینٹی اٹلس پہاڑ
اس پہاڑی پٹی کو اینٹی اٹلس پہاڑاس لیے کہا جاتا ہےکہ پہاڑکی یہ پٹی بحر اوقیانوس کی جانب مراکش کے ساتھ ساتھ تقریبا 500 کلومیٹر یا 310 میل تک چلی جاتی ہے۔ 

صحارااٹلس۔
صحرائے صحارا چونکہ الجیریامیں ہے، اس لیے اٹلس پہاڑ کی یہ اس طرف کوصحاڑا اٹلس کہا جاتا ہے۔ الجیریا میں صحارا اٹلس کا یہ مشرقی حصہ بن جاتاہے۔  

ٹیل اٹلس۔ 
ٹیل اٹلس کی لمبائی 1،500 کلومیٹر (930 میل) ہے.پہاڑکی یہ پٹی بحیرہ روم سے مماثل ہے اور تیونس،الجیریا سے ہوتی ہوئی مراکش تک جا پہنچتی ہے۔

مزید نقشےاور لنکس

نیچے دئیے گئے نقشوں میں دکھایا گیا ہے کہ اٹلس پہاڑ، صحارا صحرا اور افریکہ میں مراکش، الجیریااور تیونس کی سرحدیں آپس میں‌مل رہی ہیں۔ 


مزید پڑھیںمراکش،گورنمنٹ کی ویب سائٹ ,  مزید پڑھیں مراکش، نیشن آن لائن کی ویب سائٹ
 مزید پڑھیںسی آئی اے۔ ورلڈ فیکٹ بک
مزید پڑھیں
مزید پڑھیں,