Slider

Menu :

Latest News

WordPress Per Website Banayen

Blogroll

Pages

Animation Trailers

top header advertisement in header

Pak Urdu Installer

Text Widget

Recent news

Video Widget

Recent Tube

Wisata

News Scroll

Favourite

Event

Culture

Gallery

Spacecraft Rosetta

ایک یورپی خلائی جہاز نے دس سال تک ایک دمدار ستارے کا تعاقب کرنے کے بعد اس کے گرد چکر لگانا شروع کر دیا ہے۔
خلائی جہاز ’روزیٹا‘ نے 67 پی چرنیوموف جیراسیمینکو نامی اس دمدار ستارے تک پہنچنے کے لیے اپنے چھ تھرسٹر چھ منٹ تک فائر کیے۔ تاہم زمین پر موجود سائنس دانوں کو 22 صبرآزما منٹوں تک معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ آیا یہ عمل کامیاب ہو گیا ہے یا نہیں۔
یورپی خلائی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ژاں ژاک دوردین نے اس موقعے پر کہا: ’منزل کی جانب دس سال، پانچ ماہ اور چار دن کے سفر، سورج کے گرد پانچ بار چکر کاٹنے اور تقریباً ساڑھے چھ ارب کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ہم بالآخر بخوشی یہ اعلان پر سکتے ہیں کہ ہم پہنچ گئے ہیں۔‘
دمدار ستارے کے چھ ارب کلومیٹر تعاقب کے دوران جہاز نے زمین اور مریخ کی کششِ ثقل کو استعمال کیا۔
جرمنی کے شہر ڈارمشٹاٹ میں واقع یورپی خلائی ادارے کے سائنس دانوں نے توانائی بچانے کے لیے روزیٹا کے انجنوں کو 31 مہینوں تک بند رکھا۔ اس سال جنوری میں جہاز کو کامیابی سے دوبارہ ’جگایا‘ گیا۔

67پی کی رفتار 55 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ اس کی مناسبت سے روزیٹا کی رفتار میں کمی لائی گئی۔
یہ دمدار ستارہ زمین سے 55 کروڑ کلومیٹر دور واقع ہے، اس لیے وہاں سے زمین تک پیغام پہنچنے میں 22 منٹ لگتے ہیں۔
روزیٹا اگلے 15 ماہ تک 67پی کے ساتھ ساتھ چلتا رہے گا اور اس دوران مختلف آلات کی مدد سے اس کا مشاہدہ کرے گا۔

زندگی کے عناصر

اس مشن سے دمدار ستاروں کے بارے میں معلومات میں خاطرخواہ اضافہ ہو گا، اور یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ نظامِ شمسی میں زندگی کے اجزائے ترکیبی کی ترسیل میں ان کا کیا کردار رہا ہے۔
جوں جوں 67پی سورج کے قریب پہنچتا جائے گا، اس کے پیچھے گیس اور دھول کا بادل بنتا جائے گا، جس سے سائنس دانوں کو اس کی ساخت کا تفصیلی مطالعہ کرنے کا موقع ملے گا۔
نومبر میں روزیٹا سے نکلنے والی ایک گاڑی 67پی پر اترنے کی کوشش کرے گی۔
یہ گاڑی برچھے استعمال کر کے اپنے آپ کو دمدار ستارے پر مضبوطی سے نصب کرے گی، اور اس دوران سطح میں برمے سے سوراخ کر کے یہ دیکھنے کی کوشش کرے گی کہ اس کی سطح کے نیچے کیا ہے۔ 67پی کو اس کی مخصوص شکل کی وجہ سے ’ربڑ کی چٹان‘ کہا جاتا ہے۔
اس مشن سے دمدار ستاروں کے بارے میں معلومات میں خاطرخواہ اضافہ ہو گا، اور یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ نظامِ شمسی میں زندگی کے اجزائے ترکیبی کی ترسیل میں ان کا کیا کردار رہا ہے۔

نیشنل یونیورسٹی آف کیلیفورنیا‬‎

واشنگٹن: ممتاز امریکی درسگاہ کیلیفورنیا یونیورسٹی نے امریکی مسلمان طالبہ سعدیہ سیف الدین کو یونیورسٹی کے گورننگ بورڈ کا رکن بنائے جانے
 پر یہودی لابی نے مخالفانہ مہم شروع کر دی۔تاکہ اس مسلمان طالبہ کو یونیورسٹی کے معتبر فورم سے دور رکھا جا سکے۔ یہودی لابی کو اعتراض ہے کہ یہ طالبہ مسئلہ فلسطین پر فلسطینیوں کی حمایت کرتی ہے۔ ایک عرب ٹی وی کے مطابق 21سالہ سعدیہ سیف الدین کیلی فورنیا یونیورسٹی کے 26 رکنی بورڈ کی پہلی مسلمان اسٹوڈنٹ رکن ہو نگی۔ وہ ایک سال کی مدت کیلیے اس منصب پر فائز رہیں گی۔ یہودی گروپ بشمول سائمن ویسنتھال سینٹر نے اس مسلمان طالبہ کی بورڈ کیلیے نامزدگی کی سخت مخالفت کی ، اسکے باوجود یونیورسٹی بورڈ کے 26 ریجنٹس میں سے 25 نے طالبہ کی نامزدگی کے حق میں ووٹ دے کر اس کے رکن بننے کی حمایت کی ہے۔


یہودی مرکز نے مسلمان طالبہ پر اعتراض کیا ہے کہ سعدیہ نے اسرائیلی فوج ، کاروباری کمپنیوں اور یونیورسٹی فنڈزسے متعلقہ معاملات کو بے نقاب کیا تھا۔ دوسری جانب سعدیہ سیف الدین کے بارے میں یہ عمومی رائے ہے کہ وہ یونیورسٹی کے تمام طلبہ و طالبات کی بہبود کیلیے مذہبی اور نسلی امتیاز سے بالا ترہو کر سرگرم رہتی ہیں۔ اسکارف اوڑھنے والی سعدیہ سیف الدین نے اپنے حق میں آنے والے 25 ووٹوں اور اپنی نامزدگی پر کہا کہ وہ اس پوزیشن کیلیے بہت پر جوش اور خوش اور خوش ہیں۔


احمد قدیر مسجد,گروزنے، روس

روس کے شہر گروزنے، کی ایک خوبصورت مسجداحمد قدیر کا خوبصورت فضائی نظارہ


ff

رمضان ،قرآن اور غور وفکر

رمضان مبارک کا محترم ، پرنور اور رحمتوں بھرا مہینہ ہم پر سایہ فگن ہے۔ اس مہینہ میں قرآن مجید کا نزول ہوا۔ اس ماہ مبارک میں تلاوت قرآن کی بہت فضیلت وارد ہوئی ہے۔قرآن مجید نے بتایا ہے کہ اس زمین پر انسان کو اتارنے سے پہلے قدرت نے بے شمار سسٹم بنائے ، پہلے کائنات کی تخلیق ہوئی ،پھر زمین پر سمندروں کا نظام ، ہواؤں کانظام ، چرند ، پرند ، نباتات ،حیوانات، مچھلیاں،بلند و بالا پہاڑ ، گرم و سرد صحرا ، گلیشئر اور سبزہ زاروغیرہ سب کچھ صرف بنی نوع انسان کے فائدے کے لیے تخلیق کیا گیا۔ 

دوران تلاوت ، ترجمہ ضرور پڑھیں


تمام ناظرین ،تلاوت قرآن فرماتے ہوئے کچھ وقت ترجمہ کو بھی دیں تاکہ اس پیغام کی طرف متوجہ ہوں جو اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے ذریعے دینا چاہتے ہیں۔ قرآن مجید کے الفاظ پڑھنا بڑی سعادت اور ثواب کی بات ہے ۔ لیکن اگر قرآن کے الفاظ کو سمجھ کر پڑھا جائے تو تدبر، غور وفکر اور فہم و فراست میں اضافہ ہوتا ہے۔ قرآن ہمیں حکم دیتا ہے کہ ’’افلا تتفکرون‘‘ تم (قرآن کی آیات میں )غور و فکر کیوں نہیں کرتے؟۔
’’افلا یتدبرون القرآن (قرآن کے اندر تدبر (سوچ بچار)کیوں نہیں کرتے ؟)ہمیں چاہیے کہ دوران تلاوت اس طرح کی آیات پر بھر پور توجہ دیں اور علمی تحقیق بھی کریں۔ 
قرآن مجید ایک الہامی کتاب ہے جو نبی آخر الزمان ﷺپر نازل ہوئی، اس دینی اور مذہبی کتاب میں انسانی فوائد کے لیے دوسرے علوم بھی بیان ہوئے ہیں۔ قرآن میں ان علوم کا واضح تذکرہ ملتا ہے جنہیں آج صرف سائنسی مضامین سمجھا جاتا ہے۔ دراصل یہ تو منشاء خداوندی ہے کہ مسلمان دنیا کی مادی حقیقت پر بھی متوجہ ہوں ۔ قرآن مجید میں ’’الجبال ‘‘ یعنی پہاڑوں کا تذکرہ ۔ 
قرآن مجید میں سات مختلف پہاڑوں کا زکر فرمایا گیا ہے۔ جن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پہاڑ یعنی کوہ طوراور کوہ سینا، جہاں پر اللہ تعالیٰ کی تجلی بھی نازل ہوئی ۔ کوہ طور اورکوہ سینا مصر و فلسطین کے درمیان پھیلے ہوئے ہیں۔ صفا و مروہ کے دو پہاڑ سعودی عرب میں موجود ہیں جن کا زکر قرآن مجید میں کیاگیا ہے۔ 

حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جس پہاڑ پر جا کر رک گئی تھی ،یعنی ’’ کوہ جودی‘‘ اس پہاڑ کا قرآن مجید میں زکر ہواہے ۔ 
قرآن مجید میں مذکور ہے کہ پہاڑوں کی مختلف اقسام ہیں اور ان اقسام میں انسانیت کے لیے طرح طرح کے فوائد رکھے گئے ہیں۔ بعض پہاڑوں سے نمک نکلتا ہے، بعض میں سے سونا، چاندی اور مختلف نباتات، معدنیات جو قدرت نے پہاڑوں میں رکھ چھوڑے ہیں۔ 
جب ہم قرآن مجید پڑھتے ہیں اور ایک آیت زیرتلاوت آتی ہے جو پہاڑ کے بارے میں ہوتی ہے تو ایک صالح دماغ خود بخود یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا زکر کیوں فرمایا؟ گویا ہمیں خود بخود سائنس کی طرف راغب ہونا پڑے گا۔ میری گزارش ہے کہ قرآن مجید میں بیان کئے گئے(سائنسی) مضامین پر بھی توجہ کریں، اس سے آپ کے علم میں اضافہ ہوگا۔ 
آج کے اس ٹیکنالوجی ، انٹرنیٹ کے دور میں ہر طرح کے علوم کو پڑھنا انتہائی آسان ہو چکا ہے، لہٰذا آپ قرآن میں موجود علوم کو بھی انٹرنیٹ پر دیکھ سکتے ہیں ، آج کی نشست میں بیان کیا گیا تذکرہ ’’الجبال ، پہاڑوں‘‘ کے بارے میں ضرور گوگل پر سرچ کریں، وکی پیڈیا میں دنیا بھر کے پہاڑوں پر نظر ڈالیں اور اپنے علم میں اضافہ کریں۔ 

ناظرین آپ کی رائے کا انتظار رہے گا، اپنی رائے سے مجھے بذریعہ ای میل saryrang@gmail.com مطلع کریں۔ 
ہمارا فیس بک صفحہ www.facebook.com/saryrang ضرور لائیک کریں

بحیرہ روم اور اسکی مشہور بندرگاہیں

بحیرہ روم کی تاریخ

میں جب بھی تاریخ کی ورق گردانی کرتا ہوں مجھے خشکی کے بعد سب سے زیادہ متاثر پانی کے اس خطے نے کیا ہے، جسے ہم بحیرہ روم یا Mediterranean Sea کے نام سے نقشوں پر دیکھتے ہیں۔ اگر غور سے دیکھیں تو انسانی تاریخ میں قبل مسیح کی تمام اور بعد کی بھی تمامتہذیبوں کے مراکز بحیرہ روم کے ساحلوں کے     ارد گرد واقع تھے۔مشہورترین تہذیبوں میں مصری تہذیب، یونانی تہذیب، ایرانی تہذیب کے بعد ایک ہزار سالہ اسلامی تاریخ بھی قابل ذکر ہے ،اس کے علاوہ تاریخ کے بڑے بڑے روشن وہ تمام نام اسی زمین کی زرخیزی کے قدآور درخت تھے جن کے کارناموں سے آج تاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔قرآن مجید میں موجود 25 انبیاء ؑ  کا بھی واسطہ اور انکےجائے مقام سےقریب ترین سمندر یہی بحیرہ روم تھا۔
دراصل بحیرہ روم انسانی تاریخ میں کشتی کی ایجاد (جو الہامی طور پر ایک پیغمبر نے بنائی تھی)کے بعد تجارت کا سب سےبڑا مرکز بن گیا۔جوں جوں انسانی آبادی بڑھی،انسان مزید زہین اور جستجو میں مصروف ہوا تونئے اورانجانے علاقوں کی تلاش، جنگ و جدل،ماہی گیری اور دیگر سمندری غذا کے حصول کے لیے بحیرہ روم کو ہی استعمال کیا گیا۔ 
ارضیات دان بحیرہ روم کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ہزاروں سال قبل یہ بھی زمین یعنی خشکی کا ایک حصہ تھا۔یہاں بھی لوگوں کی وسیع آبادی موجود تھی۔ پھر   بحر اوقیانوس کی جانب سے ایک کمزور جگہ جسے ابھی جبرالٹر (درحقیقت یہ جبل الطارق کی بگڑی شکل ہے)کہا جاتا ہے وہاں سے پانی اس خطہ میں آنا شروع ہوا اور یہ تمام علاقہ بھی چھوٹا سمندر بن گیا۔
قبل از تاریخ کی عظیم الشان تہذیبوں کا دارومدار بھی اسی سمندر کی وجہ سے تھا اور آج کی تمام بڑی طاقتوں کا مرکز بھی یہی سمندرہے۔آج کی تمام تر دنیاوی معیشت کا دارومدار بھی بڑی حد تک بحیرہ روم سے ہے۔اگر ہم غور کریں تو جاپان،چین، ملائیشیا اور انڈیا جیسے تمام بڑے بڑے ملک اپنی مصنوعات کو بحری جہازوں میں بھر کر پوری دنیا میں فروخت کرتے ہیں۔ اور سمندر کے راستوں میں سب سے زیادہ مصروف راستہ یہی بحیرہ روم کا ہے ۔ کیونکہ ان تمام ایشیائی ممالک کا  سامان سمندری جہازوں پرچلتا ہوا ،افریقہ،یورپ اور امریکہ کواسی راستہ سے پہنچتا ہے۔تمام بڑے بحری جہازاسی خطہ سے ہو کرجاتےہیں۔ایسا لگتا ہےکہ یہ بحیرہ، سمندری مخلوق سے زیادہ انسان ہی کی خدمت کرتا آیا ہے۔ 

بحیرہ روم کا جغرافیہ

بحیرہ روم مکمل طور پر زمین(خشکی) سے گھرا ہوا ایک سمندر ہے جو بحر اوقیانوس سے بہتا ہے۔بحیرہ روم کوچاروں جانب سے خشکی نے گھیر رکھا ہے۔بحیرہ روم کے شمال میں یورپ اور اناطولیہ (ترکی) کا علاقہ لگتا ہے۔ اس کے جنوب میں شمالی افریقہ کے ممالک لیبیا، تیونس،الجیریااور مراکش کی سرحدیں ہیں۔ جبکہ بحیرہ روم کامشرقی علاقہ یا سرحد جو کہ ایک لمبی پٹی (200 کلومیٹر )کو لی ونٹ کہا جاتا ہے۔لی ونٹ دراصل مشرقی بحیرہ روم کی وہ پٹی نماخشکی کی سرحد ہے جس میں اسرائیل ،اردن ،لبنان ،شام اور ترقی کا بیشتر علاقہ شامل ہے۔بحیرہ روم کی آب و ہوا گرم اور خشک ہے۔  
بحیرہ روم کا رقبہ
بحیرہ روم کا کل رقبہ ڈھائی لاکھ(2،500،000 )مربع کلومیٹرہے۔بحرالکاہل سے جبرالٹرکے درہ کی لمبائی صرف 14 کلومیٹر ہے۔ بحیرہ روم کی سب سے گہری جگہ قریباً 5،267 میٹر پیمائش کی گئی ہے۔
بحیرہ روم کے چھوٹے سمندر 
بحیرہ روم کے کل علاقے میں مزید تین چھوٹے سمندر ہیں، جو بالترتیب،مالبوران سمندر، مار مراکا سمندر، بحراسود(Black Sea)  اور آگیان مشہور ہیں۔ مزید کی فہرست یہاں دیکھیں۔(لنک)
بحیرہ روم کے جزائر
بحیرہ روم میں مشہور جزائرکا نام یہ ہے۔قبرس سسلی،سردینیا، مالٹا (اسیر مالٹا۔کن کو کہا جاتا ہے ؟) وغیرہ مشہور ہیں۔ مزید کی فہرست یہاں دیکھیں۔ (لنک)

 لیونٹ کا علاقہ

بحیرہ روم سے ملحقہ بندرگاہیں

موجودہ بحیرہ روم کے ساتھ بائیس ممالک کی سرحدیں ملحقہ ہیں۔ ان ممالک کو آپ نقشہ میں دیکھ سکتے ہیں۔بحیرہ روم کے ان بائیس ممالک میں تقریباً ہر ایک ملک کی بندر گاہ بھی ہے، جبکہ کئی ممالک کی دو یا زیادہ بندرگاہیں بھی بحیرہ روم میں ہیں، جیسےکہ فرانس۔ مگر ہم ابھی بڑی مشہور بندرگاہوں کا تذکرہ کریں گے۔مشہور بندرگاہوں کی درجہ بندی کرنا بھی ایک مشکل کام ہے کیونکہ بندرگاہوں کی درجہ بندی میں کئی طرح کی درجہ بندی ممکن ہے، جیسے کہ مشہور ترین بندرگاہیں جو سیرو سیاحت کی وجہ سے مشہور ہیں۔ مشہور بندرگاہیں جوبحری جہازوں کے ساز وسامان کی وجہ سے مشہور ہیں۔ بہرکیف چندمشہور بندرگاہیں جو ہر طر ح کی درجہ بندی میں قابل ذکر ہیں،درج ذیل ہیں:۔  
پورٹ سعید۔
بلاشبہ پورٹ سیعد بحیرہ روم کی مشہور ترین بندر گاہ ہے یہ ملک مصر  میں ہے۔
اسکندریہ 
اسکندریہ مصر کی مشہور ترین بندرگاہ ہے۔یہ بندرگاہ تہذیبی لحاظ سے بھی مصر کے فراعین کے زمانے سے چلی آرہی ہے۔ بہت مشہور اوراہم بندر گاہ ہے۔
مارسیلی
مارسیلی فرانس کی اہم ترین بندرگاہ اور شہر ہے۔ 
ایتھنز
ایتھنز کی مشہور بندگار بھی اس درجہ بندی میں شامل ہے۔ اس بندر گاہ پر سیروسیاحت اور تجارت کےسینکڑوں بحری جہاز موجود رہتے ہیں۔ 

آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ؟

کیا ہو گیا ہےپاکستانی نوجوان کو، کیااس کیپسند، ترجیح، مشغلہ اور وقت صرف کرنے کا زریعہ صرف انڈین گانے سننا، شعر و شاعر ی کرنا (sms)، یا پھر اس سیاست پر باتیں کر کے اپناقیمتی وقت ضائع کرنا، جس کا آپ حصہ نہیں اور نہ ہی کبھی کسی ادنی درجہ کے لیڈر تک کوئی رسائی ہے(بیشتر نوجوان مراد ہیں)۔

دوسری طرف وہ نوجوان ہیں جو جس جگہ نوکر(Job) ہوگئے،بس اب پنشن تک اسی کوہلوکے چکر کاٹنا ہی زندگی کا مقصد رہ گیا؟۔

وہ حضرات جو کسی بھی شعبہ سے منسلک اپنے علم اور ہنر کے استعمال سے قوم و ملک کی خدمت کر رہے وہ قابل تحسین تو ہیں مگر اپنے اوپر مزید سیکھنے، پڑھنے اور غور و فکر کے دروازے بند کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ وہ احباب جو یہ سمجھتے ہیں  یا انکی زندگی،مصروفیات اور ترجیحات کو دیکھ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی زندگی کامطمح نظر ہو کہ،اب ہمیں مزید کچھ نہیں پڑھنا،سیکھنا، سوچنا، جو ہم کر رہے ہیں‌ بس وہی کافی و شافی ہے۔

زندگی کا مقصد، اگر صرف مرنے تک جینا، گھربار کے لیے رزق کی تلاش میں دوڑ لگانا ہو تو یہ بڑا مقصد نہیں ہے۔ مقصد عربی زبان کا لفظ ہے اور قصد سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں: کسی چیز کی طرف متوجہ ہونا‘ کسی چیز کی طرف جانا،اور اس چیز کی جستجو میں ہمہ وقت لگے رہنا۔انسان اگر اپنے مقصد کو سمجھ جائے تو  پھر اسی کی طرف متوجہ اور اسی راہ پر گامزن رہتا ہے 

زندگی اور زندگی کے مقصد پر مجھے جتنے مضمون ملے وہ یا تو مذہبی انداز کے تھےیا پھر باعمل ،باہمت،اور تاریخ کے عظیم کرداروں کی زدگی کی داستان پر مشتمل تھے۔ مگر ہمارے سامنے تو پاکستانی، موجودہ، زندہ اور ہٹا کٹانوجوان اور مستقل کا سہارا ہے ، آخر اس کو زندگی کا کون سا گر سکھایا جائے کہ وہ بخوشی اسے اپنا مقصد حیات بنا لے۔ اور بنائے تو کیسے بنائے اور کرئے تو کیا کر ئے ؟

زندگی کے مقصد کے بارے میں بڑے متضاد جواب پائے جاتے ہیں، ہر صاھب علم اپنی سوچ اور سمجھ کے مطابق جواب دیتا ہے۔مگر میرے خیال میں ہمیں زندگی کے مقصد کا تعین کرتے ہوئے اپنی تخلیق کا وقت اور جگہ پیدائش ضرور زہن نشین رکھنی چاہیے۔ تاکہ ہم اس سوالی کے جواب میں یہ مدنظر رکھیں کہ وہ کس علاقے کا بانشندہ ہے اور اس کو کیا حالات و مشکلات سے واسطہ ہے۔اور اس کی زندگی کا مقصد اور ترجیحات کیا ہونی چاہییں؟ 

زندگی بےمعنی اور بے مقصدبالکل نہیں ہےبلکہ زندگی کا مقصد معلوم نہ ہونے کا تعلق صرفبے علمی سے ہے۔اگر ہمیں زندگی اور مقصد،دونوں الفاظ کا علم ہی نہ ہو تو،تعین کیسے ہوگا؟۔ سادہ الفاظ میں ، اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میں‌جواب دوں گا، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ’’ماں کی گود سےقبر میں اترنے تک، علم کی جستجو میں‌لگے رہو‘‘۔لہٰذا ربی زدنی علما کی دعا کے ساتھ ہی علم کے حصول کو ہی زندگی کا مقصد بنا لیں۔ 

 زندگی عمل کا،مسلسل چلتے رہنے، بڑھتےاور سیکھتے رہنے کا نام ہے۔ بے شک اس وقت ملک عزیز اور امت مسلمہ گھمبیر مسائل کا شکار ہے ۔ مگر ان مسائل اور مصائب سے نکالنے کے لیے یقینا،سب سے زیادہ زمہ داری نوجوان نسل پر ہیپر ہی عائد ہوتی ہے ۔ آج اگر نوجوان نسل نے اپنے اردگرد کے حالات سے بے خبری ظاہر کی تو ہمارا کل، آج سے بھی برا ہوگا۔ ہم سب کواس سلسلے میں اپنی پوری توانائیاں صرف کرنی چاہییں، بالخصوص اپنی سوچ اور علم کو وسیع ترکرنا ہوگا۔ 

دوسرے کو تلقین کرنا اور خود بیٹھے رہنااچھا نہیں، آج کا مضمون ’’بحیرہ روم اورملحقہ بندرگاہیں‘‘لکھنے کے لیے مجھے بہت کچھ پڑھنا پڑا،بحیرہ روم کا حدود اربعہ، جغرافیائی کیفیت و نشاندہی، ملحقہ ممالک کی تفصیل اور بندرگاہوں پر تحقیق کرنا پڑی۔ مشہور ویب سائٹس سے مواد لیا، اس کا ترجمہ کیا اوراپنی اس ویب سائٹ پر شائع کر دیا۔ کیوں؟

 کیوں کہ میں سمجھتا ہوں یہی وہ آخری حل سے جس سے ہماری سوچ،سمجھ،فکر، شعور میں‌بہتری آئے گی۔اوریہی ایک آخری طریقہ ہے کہ خود بھی علم کی جستجوں میں رہیں اور دوسروں کےلئے بھی مواد پیش کریں۔یہ علمی اور قلمی جہاد اس لئے بھی ضروری ہیں کہ، ہمارے نادیدہ دشمن کی پوری پوری کوشش اس جانب ہے کہ کس کس ہتھکنڈے اور غیر محسوس طریقے سے،پاکستانی نوجوان کو برین واش کیا جائے،زیادہ سے زیادہ وقت ضائع کیا جائے,اس کی ترجیحات اور خواہشات کو بدلا جائے۔

بحیرہ روم کہاں ہے اور اس سے منسلقہ ممالک اور بندرگاہوں کی تفصیل جاننے کیلئے، یہاں پڑھیں۔ دوسرے سے شئیر بھی کریں۔ 


جرمنی میں اعلیٰ تعلیم۔رہنمائی اور ہدایات

جرمن ملک کا تعارف۔ زبان،کرنسی، رہائش، ویزہ، مذہب اور کلچر وغیرہ۔

اگر آپ جرمنی جانا چاہتے ہیں تو پہلے ہم آپ کو اس ملک کا تھوڑا سا تعارف کروادیں۔ جرمنی وسطی یورپ کا ایک وفاقی پارلیمانی جمہوریہ پرمشتمل ملک  ہے۔ جرمنی کی 16 ریاستیں (صوبے) ہیں اور اس کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے برلن ہے۔جرمنی کی سرحدیں‌، ڈنمارک، سوئزرلینڈ، پولینڈ، نیدرلینڈ اور آسٹریا سے ملتی ہیں۔  تعلیمی، صنعتی، ثقافتی اور ماڈرن ٹیکنالوجی و ترقی کے لحاظ سےجرمنی بلاشبہ یورپ کا اہم ترین ملک ہے۔ اس ملک کی جامعات میں‌ہر طرح کی ایڈوانس ٹیکنالوجی پر پڑھائی ہوتی ہے اور ہر یونیورسٹی کے پاس اچھی اچھی لائبریریاں اور لبارٹریاں ہیں۔ ملک کا انٹرنیٹ کنٹر ی کوڈ de.ہے۔ جبکہ ٹیلیفون ڈائلنگ کوڈ 49 +ہے۔
جرمنی بھر کے 175 شہروں میں سرکاری سطح پر تسلیم شدہ یونیورسٹیوں کی تعداد 380 سے بھی زائدہے۔مگر پاکستانی طلبائ کی زیادہ تعداد دارالحکومتبرلن اورفرینکفر ٹ کی جامعات میں‌ہی پڑھتی ہے۔جرمنی کے پانچ بڑے اور مشہورشہر وں کی تقسیم بلحاظ آبادی کچھ یوں ہے۔ برلن جرمنی کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے۔تمام بڑی یونیورسٹیاں اور ملک بھر کے اداروں کے صدر دفاتر اسی شہر میں ہیں۔دوسرے نمبر پر ہمبرگ،مونچ تیسرے، فرینکفرٹ چوتھے جبکہ ایسین پانچویں نمبر پرہے۔ جرمنی کا جھنڈا تین رنگوں (سب سے اوپر کالارنگ، درمیان میں سرخ اور نیچے پیلا رنگ)پر مشتمل ہے۔ جرمنی کا نقشہ۔

جرمنی میں موجود پاکستانی 

جرمنی میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی رہائش پزیر ہے ۔2009 میں، جرمن حکومت نےجرمنی میں مقیم پاکستانی نژاد افراد کی تعداد کا تخمینہ  76.173 لگایا تھا۔ ان میں  47.539 افراد جرمن پاسپورٹ رکھتے ہیں، گویا وہ جرمن شہری بن چکے ہیں۔ جبکہ 28.634 افراد کے پاس پاکستانی پاسپورٹ تھے۔پاکستانیوں کی بڑی تعداد جرمنی کے مشہور شہر فرینکفرٹ، برلن اور ہمبرگ میں رہائش پزیرہے۔پاکستانی، جرمنی میںاعلیٰ تعلیم ، میڈیا، سیاست اور بزنس میں اپنی مضبوط پہچان قائم کر چکے ہیں۔پاکستانیوں کی بڑی تعداد جرمنی میں صرف 20 سال پہلے آناشروع ہوئے اس لیے تمام بڑے افراد اردو اور انگلش بولتے ہیں، جبکہ وہاں پیدا ہونے والے پاکستانیوں کے بچے جرمن زبان بڑی روانی سے بولتے ہیں۔ مزید پڑھیں>>

جرمنی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے پہلے  کم از کم قابلیت 

اگر آپ جرمنی میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس کم از کم انٹرمیڈیٹ ( FA یا FSc) کا سرٹیفکیٹ ہونا لازمی ہے یعنی آپ کی کم از کم تعلیم بارہ سال ہونی چاہیے۔
پاکستان کے کسی بھی تعلیمی ادارے یا یونیورسٹی (حکومت سے منظور شدہ) سے بیچلر یا ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے کے بعد آپ براہ راست جرمن یونیورسٹیوں کے انگلش یا جرمن کورسز میں داخلہ (ایڈمشن ) لینے کے اہل ہو جاتے ہیں ۔یہ بات یاد رہے کہ ایف اے یا ایف ایس سی کے بعد براہ راست کسی بھی جرمن یونیورسٹی میں داخلے کےلئے اپلائی کرنا ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے پہلے طلباء کو کسی کالج میں داخلہ لینا پڑتا ہے۔
دراصل جرمن تعلیمی قانون کی رُوسے پاکستانی طلباء ایف اے، ایف ایس سی یا اس کے مساوی بارہ سالہ تعلیمکے بعدبراہ راست کسی بھی جرمن یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے اہل نہیں ہوتے کیونکہ یونیورسٹی میں داخلہ کی شرط کےمطابق ،آپ کی کم از کم تعلیم تیرہ سال ہونی چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں آپ کے پاس اے لیول یا میٹرک کے بعد تین سالہ ڈپلومہ یا پھر دو سالہ بیچلر ڈگری کا ہونا لازمی ہے۔

بارہ سالہ تعلیم (ایف اے، ایف ایس سی یا اس کے مساوی) ہو تو کیسے اور کہاں داخلہ بھیجا جائے ؟

ایف اے یامساوی تعلیم چونکہ بارہ سالہ ہوتی ہے جبکہ جرمنی میں یونیورسٹی میں داخلہ  کی شرط تیرہ سالہ ہے اس لئے پہلے طلباء کو کسی جرمن کالج  میں داخلہ لے کرمزید ایک سال پڑھنا ہوگا ۔ یہ کالج، جسے جرمن زبان میں ’شٹوڈین کولیگ‘ (Studienkolleg) کہتے ہیں، یونیورسٹی کا ہی حصہ ہوتا ہے۔ اپنی سابقہ تعلیم کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کسی بھی کالج میں بیالوجی، سائنس، آرٹس یا معاشیات کے مضامین میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ کالج میں طلباء کو دو سمسٹر یعنی ایک سال تک تعلیم حاصل کرنا ہوتی ہے۔ ایک سالہ تعلیم کے بعد سالانہ امتحان لیا جاتا ہے، جسے جرمن زبان میں ’فیسٹ شٹیلنگ پروفنگ‘ (Feststellungsprüfung) کہتے ہیں۔ یہ امتحان پاس کرنے کے بعد آپ جرمنی کی کسی بھی یونیورسٹی میں داخلے کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔
اہم نوٹ: یاد رہے کہ جرمن یونیورسٹیوں کے بر عکس کالج میں تعلیم صرف جرمن زبان میں دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو ایڈمشن اور ویزہ اپلائی کرنے سے پہلے پاکستان کے کسی ادارے سے جرمن زبان کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنا ہو گی۔ جرمنی آنے کے بعد اور کالج میں باقاعدہ تعلیم کے آغاز سے پہلے آپ کو جرمن زبان کا ٹیسٹ دینا پڑتا ہے، جسے پاس کرنے کے بعد ہی آپ کالج کی کلاسوں میں بیٹھ سکتے ہیں۔ اگر آپ پہلی مرتبہ اس ٹیسٹ میں فیل ہو جاتے ہیں تو آپ کو یہ امتحان پاس کرنے کے لیے مزید دو مواقع دیے جاتے ہیں۔ اس طرح جرمن زبان کا ٹیسٹ پاس کرنے کے لیے آپ کے پاس ایک سال کا عرصہ ہوتا ہے۔جرمن کالجوں کے بارے میں آپ اس ویب سائٹ سے تفصیلی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ویب سائٹ جرمن اور انگلش دونوں زبانوں میں ہے۔

بیچلر اور ماسٹرز ڈگری یافتہ مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کی خاطر  کہاں اپلائی کریں؟

اگر آپ نے پاکستان سے بیچلر یا ماسٹرز ڈگری حاصل کرلی ہے تو آپ جرمنی کی کسی بھی یونیورسٹی میں براہ راست داخلہ لے سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں بہتر یہ ہے کہ آپ جرمن یونیورسٹیوں میں پڑھائے جانے والے انگلش میڈیم کورسز میں داخلہ لیں۔
یونیورسٹی ڈگریوں کا جائزہ
بیچلر ڈگری (B.A., B.Sc., Bachelor of Engineering, or similar): اگر آپ کے پاس ہائر ایجوکیشن انٹرینس کوالیفیکیشن (تیرہ سالہ تعلیم) ہے تو بیچلر ڈگری کے لیے داخلہ لینا آپ کے لیے بہترین ہو گا۔ یہ جرمنی میں کروائی جانے والی پہلی تعلیمی ڈگری ہے، جسے بین الاقوامی تعلیمی مارکیٹ میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ 6 تا 8 سمسٹرز پر مشتمل اس ڈگری میں طالب علموں کو کسی بھی سبجیکٹ کے متعلق بنیادی اصول سکھائے جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ بیچلر ڈگری حاصل کرنے کے بعد آپ ملازمت یا پھر ماسٹرز ڈگری کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔ اپنے لیے موزوں بیچلر ڈگری تلاش کرنے کے لیے آپ ہمارا آرٹیکل ’’مطلوبہ یونیورسٹی اور کورسز تلاش کرنے کا طریقہ‘‘ پڑھیے۔ اِس آرٹیکل کے ذریعے آپ انڈر گریجویٹ کروائے جانے والے تمام اسٹڈی پروگراموں کی لسٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
ماسٹرز ڈگری (M.A., M.Sc., Master of Engineering, or similar): اگر آپ جرمنی سے بیچلر ڈگری ( یا اسی لیول کی پاکستان سے ڈگری) حاصل کر چکے ہیں تو آپ ماسٹرز ڈگری کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔ جرمن یونیورسٹیوں میں یہ دوسری سطح کی ڈگری ہے، جسے آپ حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر آپ ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو آپ ملازمت کے علاوہ ہائر اکیڈمک ڈگری (ڈاکٹریٹ) کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔ بیچلر ڈگری کورسز کی طرح ماسٹرز ڈگری کورسز بھی انگلش زبان میں پڑھائے جاتے ہیں اور ان میں خاص طور پر غیر ملکی طلباء کی دلچسپی کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اپنے لیے موزوں ماسٹرز ڈگری تلاش کرنے کے لیے آپ ہمارا آرٹیکل ’’مطلوبہ یونیورسٹی اور کورسز تلاش کرنے کا طریقہ‘‘ پڑھیے۔
ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) ڈگری
ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے کے بعد آپ ڈاکٹریٹ ڈگری کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔ یہ ڈگری حاصل کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہوتا ہے، اس بات کا انحصار آپ کے ریسرچ فیلڈ پر ہوتا ہے۔ عمومی طور پر تھیسس لکھنے اور ڈگری حاصل کرنے کے لیے آپ کو دو سے تین سال تک کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اس موضوع سے متعلق تفصیلی معلومات کے لیے آپ ہمارا آرٹیکل ’ڈاکٹریٹ سٹڈی اور ریسرچ‘ سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔
ضروری نوٹ: اگر آپ انگلش میڈیم کورس کے لیے اپلائی کر رہے ہیں تو اس کے لیے انگلش زبان کا سرٹیفیکیٹ (TOEFL, IELTS وغیرہ) کا ہونا ضروری ہے۔
اسی طرح اگر آپ جرمن میڈیم کورس کے لیے اپلائی کر رہے ہیں تو اس کے لیے آپ کے پاس جرمن زبان کا سرٹیفکیٹ (DSH, TestDaF) کا ہونا ضروری ہے۔

جرمنی میں بڑی جامعات کی فہرست 

جرمنی میںسرکاری سطح پر تسلیم شدہ یونیورسٹیوں کی تعداد 380 سے بھی زائد ہے۔بنیادی طور پر ہم تمام جامعات کو تین درجوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ جہاں ان یونیورسٹیوں میں مجموعی طور پر 15 ہزار سے زائد تعلیمی پروگرام پڑھائے جاتے ہیں۔ہر ایک یونیورسٹی یکساں معیار رکھتی ہے لیکن انداز منفرد اورمضامین مخصوص ہیں۔ عام طور پر جرمنی میں تین اقسام کی یونیورسٹیاں ہیں۔
سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم دینے والی یونیورسٹیاں
قانون ، اقتصادیات ، تاریخ اور ریسرچ پر مشتمل یونیورسٹیاں
کالج آف آرٹ، فلم اینڈ میوزک آف آرٹِسٹک کورسز
تمام یونیورسٹیوں کی تفصیل کے لئے یہاں پڑھیں۔(لنک)

ویب سائٹ کی ورڈز۔
(پاکستانی طلبا جرمنی کی جامعات میں، پاکستانی طلبا اور جرمن جامعات،  جرمنی میں اعلیٰ تعلیمی رہنمائی اور ہدایات، جرمنی سٹوڈنت ویزا، جرمنی امیگریشن، جرمنی زبان)

Atlas Mountains - Morocco

اٹلس پہاڑدنیا بھر میں‌پھیلے مشہور ترین پہاڑوں میںسے لمبائی میں چھٹے نمبر پر ہے۔ اس کی لمبائی 2،500 کلومیٹر (1،600 میل) ہے۔ اٹلس پہاڑ کی یہ پٹی  بحر اوقیانوس یعنی شمال مغربی افریکہ سے شروع ہوتی ہے۔ افریکہ کے عظیم صحرا صحارا کو یہ اٹلس پہاڑوں کی پٹی بحیرہ روم اور بحر اوقیانوس سے الگ کرتی ہے۔

اٹلس پہاڑوں کی ایک اہم خوبی یہاں کے جانور ہیں جو پوری دنیا میں‌اور کہیں بھی نہیں‌پائے جاتے ۔ان مخصوص جانوروں میں مشہور اٹلس کا ریچھ،بربرچیتا، بربربھیڑ، بربرہرن وغیرہ شامل ہیں۔ 

اٹلس پہاڑوں کی ارضیات اور قدرتی وسائل

ارضیات دانوں کا کہنا ہے کہ افریکہ میں زیر زمین اٹلس پہاڑ کی تہہ چار سے پانچ ارب سال پرانی ہیں۔ جبکہ موجودہ اٹلس پہاڑ کی تشکیل بہت بعد میں تین مراحل میں ہوئی تھی۔ ان تین مراحل کو بھی ہزاروں سال لگ گئے۔ ارضیات دانوں کا کہنا ہے کہ اٹلس پہاڑ کے اندر قدرتی وسائل کی وافر مقدار موجود ہے۔ اٹلس کوہ کے اندر قدرت نے بے شمار خزانے رکھ دیئے ہیں جن میں، تانبہ، چاندی، پارا، فاسفیٹ، ماربل، معدنی کوئلہ، لوہا اور قدرتی گیس شامل ہیں۔ 
A short introduction of Atlas Mountains, in Urdu


اٹلس پہاڑ کی تقسیم۔

اٹلس پہاڑوں کو مزید چار حصوں میں‌تقسیم کیا گیاہے، جس میں درمیانی اٹلس پٹی(مراکش)، بلند اٹلس پہاڑ(مراکش)، اٹلس پہاڑ کی مخالف پٹی (Anti Atlas)(مراکش)، اور صحارا اٹلس(الجیریا)،ٹیل اٹلس(مراکش، الجیریا)۔

اٹلس پہاڑ چونکہ تین ممالک میں پھیلا ہوا ہے اورشمال مغرب میں بحر اوقیانوس سے ابتدائ کرتا ہوا مشرق میں بحیرہ روم تک جاپہنچتا ہے۔ پہاڑکی لمبائی 2،500 کلومیٹر (1،600 میل) طویل ہے۔ یہ طویل لمبائی تین افریکی ممالک میں سے گزرتی ہے جن میں‌مراکش، الجیریااور تیونس تک جا پہنچتی ہے۔ درمیان میں بڑے بڑے ریگستان، علاقے، اور شہر آتے ہیں۔ 

درمیانی اٹلس پٹی
اٹلس پہاڑ کا یہ حصہ مکمل طور پر مراکش کے سرحد میں پڑتا ہے۔پہاڑ کایہ حصہ مولویا اور قوم ال ریبا دریائوں کے بیچ میں‌پھیلا ہوا ہے۔

ہائی اٹلس
ہائی اٹلس کو اس کی بلندی کی وجہ سے ئہ نام دیا گیاہے۔ اٹلس پہاڑ کی یہ پٹی مغرب میں بحراوقیانوس سے ابتدائ کرتے ہوئے وسطی مراکش سے ہوتے ہوئے الجیریا کی سرحد تک چلی جاتی ہے۔اٹلس پہاڑوں میں‌موجود چوٹیوں میں سب سے بڑی چوٹی توبکال پہاڑ کی ہے۔ توبکال پہاڑ کی بلندی4165 میٹر ہے۔ 

اینٹی اٹلس پہاڑ
اس پہاڑی پٹی کو اینٹی اٹلس پہاڑاس لیے کہا جاتا ہےکہ پہاڑکی یہ پٹی بحر اوقیانوس کی جانب مراکش کے ساتھ ساتھ تقریبا 500 کلومیٹر یا 310 میل تک چلی جاتی ہے۔ 

صحارااٹلس۔
صحرائے صحارا چونکہ الجیریامیں ہے، اس لیے اٹلس پہاڑ کی یہ اس طرف کوصحاڑا اٹلس کہا جاتا ہے۔ الجیریا میں صحارا اٹلس کا یہ مشرقی حصہ بن جاتاہے۔  

ٹیل اٹلس۔ 
ٹیل اٹلس کی لمبائی 1،500 کلومیٹر (930 میل) ہے.پہاڑکی یہ پٹی بحیرہ روم سے مماثل ہے اور تیونس،الجیریا سے ہوتی ہوئی مراکش تک جا پہنچتی ہے۔

مزید نقشےاور لنکس

نیچے دئیے گئے نقشوں میں دکھایا گیا ہے کہ اٹلس پہاڑ، صحارا صحرا اور افریکہ میں مراکش، الجیریااور تیونس کی سرحدیں آپس میں‌مل رہی ہیں۔ 


مزید پڑھیںمراکش،گورنمنٹ کی ویب سائٹ ,  مزید پڑھیں مراکش، نیشن آن لائن کی ویب سائٹ
 مزید پڑھیںسی آئی اے۔ ورلڈ فیکٹ بک
مزید پڑھیں
مزید پڑھیں


سی جی آئی ٹیکنالوجی اور فلم

یقیناآپ نے فلموں‌میں‌خلائی مخلوق، عجیب و غریب پرندے، ہم شکل انسان اور رنگ برنگی دنیائیں، سمندر، پہاڑ دیکھے ہونگے ؟
 سائنس فکشن اور ڈرائونی فلموں‌ میں‌فلمائے گئے یہ مناظر کمپیوٹر جنیریٹڈ امیجنری (CGI: Computer-generated imagery )ٹیکنالوجی سے بنائے جاتے ہیں۔ 

سی جی آئی (CGI ) کیا ہے ؟

سینمااور فلم بنانے والوں کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی کہ ناممکن اور تصوراتی چیزوں کو ممکن کرکے دکھایا جائے۔ جو کام یا منظر ہم اپنی روز مرہ زندگی میں نہیں کر سکتے ان کو سکرین پر دیکھنے کی خواہش ناظرین کو شدت سے رہی۔ جب کمپیوٹر کا استعمال سادہ دکھائی جانے والی فلموں میں ہونے لگا تو تصوراتی اشیاء بھی فلم کا حصہ بننے لگیں۔ یہیں پر سی جی آئی ٹیکنالوجی کا تعارف ہوا۔
سی جی آئی ٹیکنالوجی دراصل کمپیوٹر گرافکس ( یا اس سے زیادہ خاص طور پر ، 3D کمپیوٹر گرافکس ) سے تصوراتی منظر کشی کی جاتی ہے جس کو بعد میں فلم کے سین کے مطابق ڈھال لیا جاتاہے۔ 

سی جی آئی (CGI ) کا استعمال کہاں کہاں ہوتا ہے؟

CGI ٹیکنالوجی کا استعمالفلموں ، ٹیلی ویژن پروگراموں ، ویڈیوگیمز ،اشتہارات،اور پرنٹ میڈیا میں کیاجاتا ہے۔ملٹی میڈیا میں ہر طرف 3Dگرافکس سے بنائی گئی چیزیں ہر وقت نظر آتی ہیں۔ اسی طرح ویڈیو گیمزجو مکمل ایک نئی دنیا ہوتی ہےمیں بھی دراصل کمپیوٹر گرافکس کا استعمال کیا جاتاہے۔ ہر طرح کی کارٹون بھی اسی ٹیکنالوجی کا نتیجہ ہیں۔ 
فلموں میں نئی دنیا بسانا، ناممکن اور تصوراتی مناظر کی تصویر کشی کرنا اور فلموں کے اندر زوردار دھماکے، بڑی بڑی عمارتوں کو منہدم کردینا، کئی ہزار انسانوں کوختم کرنااسی ٹیکنالوجی کی بدولت ممکن ہواہے۔ سپر مین کا ہوا میں اڑنا اور پرانے وقتوں کی بالکل ٹھیک منظر کشی اس طرح سے کی جاتی ہے کہ دیکھنے والے تجسس اور حیرت کے ساتھ ساتھ خوشگوار یادیں سمیٹ لیتے ہیں۔

کیاایک فردیا چھوٹی فلم کمپنی سی جی آئی کا استعمال کر سکتی ہے؟ 

آپ کو یاد ہوگا، اسی سال پاکستانی فلم   "وار "نے بڑی کامیابی حاصل کی۔ دراصل یہ فلم بھی سی جی آئی ٹیکنالوجی اور سپیشل افیکٹس سے بھر پور فلم تھی، اور یہی اس کی مقبولیت کی وجہ بن گئی۔ گویا اگر آج پاکستانی فلمیں بھی سی جی آئی ٹیکنالوجی کا استعمال کریں تو فلم انڈسٹر ی میں جان پڑ سکتی ہے۔ 
سوال یہ ہے کہ کیا سی جی آئی سافٹ وئیر خریدنا آسان ہے؟
آج کل کے تیز رفتار کمپیوٹر اس قابل ہیں کہ ان پر انفرادی سطح پر بھی سی جی آئی اور سپیشل افیکٹس بنانے والے سافٹ ویئر چلائے جا سکیں۔ اس طرح چھوٹی فلم کمپنیاں اور انفرادی طور پر کام کرنے والے فنکار بھی اپنی فلموں اور کمپیوٹر گیمز میں جدت اور خوبصورتی پیدا کرسکتے ہیں۔ 
ی جی آئی ٹیکنالوجی(کمپیوٹر گرافکس اور3Dٹیکنالوجی ) ایسی شاندار چیز ہے کہ اس کے استعمال سے فلم بنانے والے پوری دنیا بنا لیتے ہیں۔ لوگ، جانور، پہاڑ ، دریا، خلائی مخلوق غرض تصور کی گئی ہر چیز اور سین بنایا جا سکتاہے۔ 
ہالی وڈ کی تما م سائنس فکشن فلمیں سی جی آئی ٹیکنالوجی ، 3Dگرافکس اور سپیشل افیکٹس کا ہی استعمال کرتی ہیں۔ ہالی وڈکی نئی ایکشن، ایڈوانچر اور سائنس فکشن فلم "ایکس مین:ڈیز آف فیوچر پاسٹ " X-Men:  Days of Future Pass ,  اسی مہینےیعنی 23مئی 2014 کو ریلیز ہو رہی ہے۔ یہ فلم بھی سپیشل افیکٹس سے بھر پور ہے۔ فلم کا ٹریلر دیکھئے۔

X-Men - Days of Future Past Official Trailer 2 by boxofficeinternational

CGI Technology Used in - X-Men: Days of Future Past


سیٹلائٹ کے زریعے سمندروں کی حفاظت

سیٹلائٹ سمندر کو محفوظ رکھ سکتے ہیں

یورپ کی اسپیس ایجنسی (ESA)میں یہ معاملہ زیر غور ہے کہ کس طرح سمندر کی بہتر دیکھ بھال کیلئے، اس حفاظتی نظام کو مزید بہتر بنایا جائے۔ یاد رہے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے پہلے ہی سمندری جہازوں، بندر گاہوں، غیر قانونی ماہی گیری ، سمندر میں تیل کے پھیل جانے والے مسائل اور انسانی سمگلنگ پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ سمندر کی وسعت کو مد نظر رکھتے ہوئے قریباً یہ بات ناممکن ہے کہ کوئی ایک واحد ملک اس پورے نظام کو سنبھال سکتا ہے، بلا شبہ یہ کام پوری دنیا کو ملک کر سرانجام دینا ہوگا۔
 
اس سال کے اوئل میں یورپی اسپیس ایجنسی نے ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا تھا ۔جس میں یہ معاملہ زیر غور رکھا گیا کہ، کس طرح دنیا کے مختلف ممالک مل کر سیٹلائٹ کی بھیجی گئی اطلاعات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ 
بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک قابل عمل صورتحال یہ پیش کی گئی کہ تمام بڑ ے سمندری جہاز وں پر شناخت کا مخصوص نظام موجود ہونا چاہیے،یہ شناخت سیٹلائٹ کو اطلاعات بھیجتا رہے گا اور سیٹلائٹ زمین پر موجود سٹیشن کو باخبر رکھے گا۔ 

باشعور سمندر نظام 

امریکی کوسٹ گارڈ کے ایک رکن نے کہاکہ ’’سیٹلائٹ کے خود کار شناختی نظام سے معلومات حاصل کر کے ہم کسی علاقے کا خاکہ سکرین پر دکھا سکتے ہیں، جس میں ہر سیٹلائٹ کی حدود میں موجود تمام سمندری جہاز قابل شناخت رہیں گے۔ 
اسی طری ۱طالوی کوسٹ گار ڈ کے کیپٹن لیوپولڈو کا کہنا ہے کہ ’’بین الاقوامی تنظیمیں اس مسئلے کو حل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔


چین میں دیوہیکل دوربین نصب

ریڈیوآسڑولوجی میں  کہا جاتا ہے کہ جتنی بڑی دور بین اتنا اچھا نتیجہ۔ چین سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ذبردست ترقی کررہاہے۔ چین نے جنوب مغربی صوبے میں دنیا کی سب سے بڑی دور بین لگانے کے کام کا آغاز کر دیا۔

تیس فٹ بال میدانوں کے برابر اس دوربین پر 500 میٹر کا محدب عدسہ لگا ہو گا جبکہ اس کی تعمیر میں 5600 ٹن خالص سٹیل استعمال کیا جائے گا۔اس دور بین کی تنصیب 2016 تک مکمل کر لی جائے گی۔ اس کامیاب منصوبے کے سربراہ سائنس دان نان رینڈونگ نے کہا ہے کہ دور بین کا وسیع ترین قطر ہونے کے باوجود اس کے نتائج سو فیصد ہوں گے اور چھوٹے چھوٹے ذرات کو بھی واضح انداز میں دیکھا جا سکے گا۔ان کا کہنا تھا کہ 'ہم اس کی مدد سے مزید نمونوں کا معائنہ کر سکیں گے۔اور دور افتادہ سیارچوں کو جو ابھی تک ہماری نظروں‌سے اوجھل ہیں دریافت کر کے ان کا جائزہ لیا جا سکے گا'۔چین کی نیشنل آسٹرونومی آبزر ویٹری کے سربراہ پی ڈی کے مطابق 'ہمارا مقصد دور دراز سیاروں کا مشاہدہ کرنا ہے'۔یہ مضمون درج ذیل ویب سائٹس سے اخذ کیا گیاہے۔ 


چہرےکے جذبات ظاہر کرنی والی عینک

الیکٹرونک اشیائ بنانے میں‌جاپان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ایک جاپانی پروفیسر ہیروتاکا اوساوس نے ایسی ہی حیران کن ایجاد کی ہے جس کا نام سمارٹ عینک رکھا گیا ہے۔ یہ عینک اس چیز پر توجہ نہیں دیتی جسے پہننے والا دیکھ رہا ہوتا ہے بلکہ یہ کمپیوٹرسے منسلک ہوکراس نظارے کی اینمیشن تیار کرتی جاتی ہے۔

عینک کے موجدپروفیسر ہیروتاکا اوساوس کے ذاتی تاثرات

عینک کے موجدپروفیسر ہیروتاکا اوساوس نے اس بارے میں کہا کہ صارف جب مصروف ہو یا اس کی توجہ کسی دوسری طرف ہو تب بھی وہ اس عینک کی مدد سے دوسروں پر اپنے جذبات ظاہر کر سکتا ہے۔ 
پروفیسر ہیروتاکا کے مطابق یہ اساتدہ، نرسوں اور ویٹرسوں، ملازماؤں، تھیراپی دینے والوں اور دوسروں سے بہت زیادہ رابطے میں رہنے والے دیگر پیشہ ور افراد کی ضرورت بن سکتا ہے۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ترقی یافتہ معاشرے میں کارکنوں کو زیادہ سماجی ہونے کی ضرورت ہے۔

چشمے کی مزید خصوصیات

اس جدید چشمے کا مقصد صارفین کو ٹیکنالوجی کی مدد سے زیادہ سماجی خصوصیات مہیا کرنا ہے، جو بعض ایسے روبوٹوں میں پہلے سے موجود ہیں جو ہماری جسمانی مشقت کم کرنے میں ہاتھ بٹاتے ہیں، جب کہ دوسری طرف کمپیوٹر ہیں جو ہماری ذہنی سرگرمیوں میں مدد دیتے ہیں۔
اس سمارٹ عینک میں دو جدید سکرینیں لگی ہوئی ہیں جو بلیو ٹوتھ کے ذریعے سمارٹ فون یا کمپیوٹر کی مدد سے کنٹرول کی جا سکتی ہیں۔ یہ کیمرے سے بھی منسلک کی جا سکتی ہیں تاکہ زیادہ وسیع ماحول کا مشاہدہ کیا جا سکے۔


قیام پاکستان کی مشکلات پر مختصر نوٹ

ہندو اور انگریز دونوں‌ہی شروع سے پاکستان کے وجود میں‌آنے کے خلاف تھے۔ انھوں‌نے اسے بادل نخواستہ تسلیم کیا ہے۔ وہ اسےچند دن کا کھیل سمجھتے تھے۔ انہوں نے ہر وہ طریقہ اپنایا جو پاکستان کے مفادات کے خلاف تھا۔قیام پاکستان کے بعد حکومت پاکستان کو بہت سے فوری مسائل سے دوچار ہونا پڑا۔جن میں‌سے چند ایک درج ذیل تھے۔

سرحدوں کا غلط تعین:۔

قانون آذادی ہند 1947ءمیں یہ بات صاف طور پر لکھی گئی تھی کہ ہندو اکثریت کے علاقے بھارت کے ساتھ اور مسلم اکثریت کے علاقے پاکستان کے ساتھ ملا دیے جائیں گے لیکن عملآاس قانون کی خلاف ورزی کی گئی۔ مشرقی پنجاب کے اضلاع امرتسر، گورداسپور، فیروز پور، لدھیانہ اور ضلع لاہورتحصیل قصور جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی بھارت کو دے دیے گئے۔ اس سازش میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور لارڈ ریڈ کلف جو باؤنڈری کمیشن کا چیئرمین تھاشامل تھے۔ دوملکوں‌کے درمیان کسی قدرتی سرحد کے تعین کے بجائے صرف ایک لائن کھینچ دی گئی۔ حد تو یہ ہے کہ بعض دیہات آدھے پاکستان میں‌ہیں اور آدھے بھارت میں۔ 

نہری پانی کا مسئلہ:-

ہندوستان کی تقسیم کچھ اس طرح سے انجام پائی کہ پاکستان کی سر زمین پر بہنے والے دریاؤں‌اور نہروں‌کے دہانے ریگیولیٹرزبھارتی علاقوں میں‌رہ گئے۔ نہر پر باری دو آب کا ہیڈ ورکس گورداسپور میں‌تھاجس سے لاہور،اوکاڑہ ، ساہیوال ، ملتان کا علاقہ سیراب ہوتا تھااس کے علاوہ قصور کے بارڈر پر دریائے ستلج پر تعمیر کردہ بند بھی ہندوستان میں‌شامل کر دیا گیا جس کا مقصد پاکستان کو بنجر بناناتھا۔ 

مہاجرین کی آمد:۔

پاکستان کے لئے ایک اور اہم مسئلہ مہاجرین کی آمد کا تھا۔ ہندو مسلم فسادات جو پاکستان کے اعلان سے پہلے ہی مشرقی پنجاب میں شروع تھے اعلان کے بعد تو یہ آگ اور بھڑک اٹھی۔ ہندوؤں نے مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام شروع کردیا۔ ان کی املاک کو لوٹا گیا ان کے گھر جلائے گئے۔ مسلمانوں کے لٹے پٹے قافلے پاکستان داخل ہونے لگے تو بہت سے مسائل اٹھ کھڑے ہوئے ۔ ان کی خوراک و رہائش اور ان کی آبادکاری کا مسئلہ سب سے اہم تھا۔ حکومت پاکستان نے پوری دلجمعی کے ساتھ مہاجرین کے مسائل کو حل کیا۔ ان کو بنیادی ضروریات زندگی بہم پہنجانے میں حکومت کے ساتھ ساتھ عوام نے بھی بھر پور تعاون کیا۔ 

قائد اعظم کی وفات:-

قائد اعظم کی ذات برصغیر کے مسلمانوں کے لئے روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہے۔ قائد اعظم نے جدوجہد پاکستان سے لے کر قیام پاکستان تک انتھک محنت کی اور ان کی بے لوث قیادت نے مسلمانوں میں نئی روح پھونک دی۔ قیام پاکستان کے بعد آپ نے پہلے گورنرجنرل کی حیثیت سے ذہ داریاں سنبھالیں اور پاکستان کو درپیش مسائل سے نپٹنے کے لیے دن رات کام کیا۔ کام کی زیادتی اور مسائل کی بھر مار کی وجہ سے ان کی صحت پر برا اثرہوا۔ آپ شدید بیمار ہوگئے اور قیام پاکستان کے تقریباً ایک سال بعد خالق حقیقی سے جا ملے۔ پاکستان کو ان کی وفات سے ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ 
Pakistan Movement



First WordPress Urdu Book "WordPress Per Website Banayen"

Introduction of Book:

Name: “WordPress Per Website Banayen”

Author: Abdul Majid

WordPress is one of the most popular, easy-to-use open source content management system available for every one to allows you to create a dynamic websites, even if you have no programming skills or experience. Train Yourself VISUALLY because WordPress is based on WYSIWYG (What-You-See-Is-What-You-Get).Millions of website designer’s and developers around the globe including Pakistan are choosing WordPress for building their dynamic websites. 

Book Detail:

Book Title: "WordPress Per Website Banayen"
Subject: Website Designing / SEO 
Author: Abdul Majid 
Publisher: Sang-e-Meel Publications
Language: Urdu 
Price: Rs. 750 /- 
Cover: Hard Binding


Description:

There are many online and offline resources where you can learn about WordPress; however books still have a special status and identity. This is the first up-to-date book on the subject of Website Designing and especially on “WordPress” in Urdu Language, which is a good addition to our Urdu Literature. Whether you’re a budding blogger or web development professional, WordPress is a brilliant tool for creating websites.

The book chapters provides you with all you need to deploy your successful dynamic WordPress websites. The book will teach you everything you need to know about internet, HTML, CMS, Database and WordPress. Every single chapter has been reviewed and reworked again and again to provide the most current and authentic data on the subject.

This book is composed for WordPress beginners; advanced and professional user’s to refresh their knowledge on website designing and familiar with new interface of WordPress latest version. It is because the WordPress is most powerful, reliable, flexible and easy to develop high standard websites.

By Wikipedia WordPress is a free and open source blogging tool and a content management system (CMS) based on PHP and MySQLwhich runs on a web hosting service.[5] Features include a plug-in architecture and a template system. WordPress is used by over 14.7% of Alexa Internet's "top 1 million" websites,[when?] and as of August 2011 manages 22% of all new websites.WordPress is currently the most popular blogging system in use on the Web, powering over 60 million websites worldwide.

Usage of WordPress in Pakistan:

According to Alexa Ranking the popularity and Usage of WordPress in Pakistan is Ranked at 68, which show the height of usage of this software in Pakistan, and the amount of professionals who are making their websites on WordPress.

Chapter's Detail:

The Book Contains Following 5 Chapter's

Chapter One:
 Introduction (Global Village)
This chapter explains: History of Computer's, History of Internet, formation of networks, world first network. Also this chapter put and overview on How Domain Name System (DNS) and ISPs connect, work and maintain the whole system,Web Page, Browsers, etc

Chapter Two:  
Website Designing Basic (Intro of HTML, CSS)
This chapter explain the invention of World Wide Web and Hyper Text Markup Language. how Tim Burners Li, Worked and invented HTML , HTML structure and rules to create a web page and entire website.  HTML and CSS introduction and detail of HTML Tags, Links, title, Heading, body of a Website Page Layout, also there is a project site. (Complete website for practice and a small company of 5 pages). Introduction of old WYSIYG website builder's like FrontPage 2003, and Dreamweaver etc.

Chapter Three:  
CMS and Database (Intro of CMS, Database, MySQL, PhpMyAdmin).In this chapter a brief intro about a Content Management System, How CMS Work.

Chapter Four:
Wordpress 3.6 (complete detail of WordPress)

Introduction to WordPress, Basic WordPress. WordPress  Installation, Dashboard, Title, Heading, Content Writing Board, WordPress plug-in, Themes, Pages and Every Thing in this area. Foundations of a WordPress-based website
  • What is WordPress?
  • How much does WordPress cost?
  • How/where do I get WordPress?
  • WordPress Hosting Options
  • Installing WordPress from scratch
  • Basic WordPress settings
  • Basics of the WordPress User Interface
  • Posts,  Pages, Sidebar, Widgets, Gadgets. 

Understanding the WordPress Dashboard

  • Pages, Tags, Media and Content Administration
  • Core WordPress Settings
  • Finding and Using WordPress Plugins
  • What are plugins?
  • Plugin directory
  • Finding and Installing Plugins Quickly and Easily
  • Upgrading WordPress Plugins
  • Recommended WordPress Plugins
  • Working with WordPress Themes

What is a theme?

  • Understanding the Structure of WordPress Themes
  • Finding Themes and Choosing the Right One
  • Installing and Configuring Themes
  • Editing and Customizing Themes
  • Using Theme Frameworks and Parent-Child Themes
  • WordPress Content Management
  • Understanding Posts Versus Pages
  • Organizing Posts with Categories
  • Connecting Posts Together with Tags
  • Custom Post Types and Custom Taxonomies
  • Managing Lists of Links

Creating and Managing Content

  • Hands-On Training on the WordPress Editors
  • Hands-On Training on the New Image Editor
  • Adding Video and Audio Media to a WordPress Website
  • WordPress Search Engine Optimization (SEO)
  • Avoiding Black Hat SEO tactics that will get you into trouble with Google
  • Managing Multimedia with WordPress
  • Organizing Pictures, Videos and Downloadable Files in WordPress
  • Alternatives to Using WordPress for Managing Media Online
  • Using WordPress Photo Galleries
  • WordPress Website Maintenance
  • Updating Plugins and Themes
  • WordPress Security, Securing WordPress Passwords
  • Updates and Patches to Keep Your Website Secure
  • Connecting Securely to Your WordPress Website
Chapter Five:  
SEO (Search Engine Optimization: On-page & Off-page)
History and Usage of SEO, Keyword and Meta Tags, Alt Tags, Social Networks, Facebook, Twitter, Yahoo, Directory and Forums, Google Webmaster Tools, Website Promotion through Groups, Free Classifieds, Link Building, Article Submission.

Content Writing: It is well said "Content is King", and it's pretty hard to generate. This chapter especially focuses on creating high quality content for your website. There are some nice tips, and advises to generate original Web Content based on your Categories and Keywords. Also this chapter covers some of the best plug-in available on WordPress to generate unique and dynamic content. These days "Content Writing jobs" are available on every major city, so you can enhance your writing skills after reading our guideline.  

Who Can Get Benefits:

  1. Bloggers who want to professionally manage their blogs via WordPress
  2. Businessmen who want to manage their websites
  3. Online Store Owners who want to setup their own Online Store and Manage it
  4. Freelancers who want to have professional websites to represent their portfolio and get more business
  5. Website Owners who want to publish Google Ads and want to earn Residual / Home based Income
  6. House Wives who want to earn Residual / Home base Income
  7. Web Designers who want to develop websites quickly via WordPress

Scope & Objectives of WordPress Training:

  1. You will be able to Create Fully Functional WordPress based Websites
  2. You will be able to setup your Own Online Store
  3. You will be able to setup your Own Affiliate Store
  4. You will be able to publish Google Ads at Your Website
  5. You will be able to completely manage your Dynamic Website based on WordPress
  6. You will be able to create web portal via WordPress
 Review WordPress Urdu Book

Related Searches:
Best WordPress Book in Urdu
Learn How to Create WordPress Website in Urdu
WordPress training in Karachi
Website Designing training in Karachi
Website Designing training in Lahore
Website Designing books
Website Designing books in Urdu
What is Search Engine Optimzation
Best WordPress Book in Urdu – Learn How to Create WordPress Sites
WordPress Website Designing Course and Training outline in the Book

 Buy

Payment Procedure

EasyPaisa: 

It is very easy to buy this book, just go and pay Rs. 750. to any Easypaisa outlet throughout country (Pakistan). After transferring the amount, tell us the secrect pass code, to do this sms or Click Here to fill this form with your complete detail {Name, Email, Message & Phone No.}. After payment confirmation, we send a copy of book at your desired address.  


HBL Bank Account: 

If you want to pay through bank account. Click Here to fill this form with your complete detail {Name, Email, Message & Phone No}. Bank detail will be delivers at your mail address.