Slider
Latest News
Blogroll
Pages
Animation Trailers
Text Widget
Recent news
Video Widget
Recent Tube
Wisata
News Scroll
Favourite
Event
Culture
Gallery
نیشنل یونیورسٹی آف کیلیفورنیا
By: Unknown on 14:14 / comment : 0 Education, National University California, Universities
پر یہودی لابی نے مخالفانہ مہم شروع کر دی۔تاکہ اس مسلمان طالبہ کو یونیورسٹی کے معتبر فورم سے دور رکھا جا سکے۔ یہودی لابی کو اعتراض ہے کہ یہ طالبہ مسئلہ فلسطین پر فلسطینیوں کی حمایت کرتی ہے۔ ایک عرب ٹی وی کے مطابق 21سالہ سعدیہ سیف الدین کیلی فورنیا یونیورسٹی کے 26 رکنی بورڈ کی پہلی مسلمان اسٹوڈنٹ رکن ہو نگی۔ وہ ایک سال کی مدت کیلیے اس منصب پر فائز رہیں گی۔ یہودی گروپ بشمول سائمن ویسنتھال سینٹر نے اس مسلمان طالبہ کی بورڈ کیلیے نامزدگی کی سخت مخالفت کی ، اسکے باوجود یونیورسٹی بورڈ کے 26 ریجنٹس میں سے 25 نے طالبہ کی نامزدگی کے حق میں ووٹ دے کر اس کے رکن بننے کی حمایت کی ہے۔
یہودی مرکز نے مسلمان طالبہ پر اعتراض کیا ہے کہ سعدیہ نے اسرائیلی فوج ، کاروباری کمپنیوں اور یونیورسٹی فنڈزسے متعلقہ معاملات کو بے نقاب کیا تھا۔ دوسری جانب سعدیہ سیف الدین کے بارے میں یہ عمومی رائے ہے کہ وہ یونیورسٹی کے تمام طلبہ و طالبات کی بہبود کیلیے مذہبی اور نسلی امتیاز سے بالا ترہو کر سرگرم رہتی ہیں۔ اسکارف اوڑھنے والی سعدیہ سیف الدین نے اپنے حق میں آنے والے 25 ووٹوں اور اپنی نامزدگی پر کہا کہ وہ اس پوزیشن کیلیے بہت پر جوش اور خوش اور خوش ہیں۔
احمد قدیر مسجد,گروزنے، روس
By: Unknown on 21:14 / comment : 0 Education, Grozny, Mosque, Russia
رمضان ،قرآن اور غور وفکر
By: Unknown on 15:30 / comment : 0 Education, My Videos, Ramazan Aur Quran, Religion
دوران تلاوت ، ترجمہ ضرور پڑھیں
حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جس پہاڑ پر جا کر رک گئی تھی ،یعنی ’’ کوہ جودی‘‘ اس پہاڑ کا قرآن مجید میں زکر ہواہے ۔
قرآن مجید میں مذکور ہے کہ پہاڑوں کی مختلف اقسام ہیں اور ان اقسام میں انسانیت کے لیے طرح طرح کے فوائد رکھے گئے ہیں۔ بعض پہاڑوں سے نمک نکلتا ہے، بعض میں سے سونا، چاندی اور مختلف نباتات، معدنیات جو قدرت نے پہاڑوں میں رکھ چھوڑے ہیں۔
جب ہم قرآن مجید پڑھتے ہیں اور ایک آیت زیرتلاوت آتی ہے جو پہاڑ کے بارے میں ہوتی ہے تو ایک صالح دماغ خود بخود یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا زکر کیوں فرمایا؟ گویا ہمیں خود بخود سائنس کی طرف راغب ہونا پڑے گا۔ میری گزارش ہے کہ قرآن مجید میں بیان کئے گئے(سائنسی) مضامین پر بھی توجہ کریں، اس سے آپ کے علم میں اضافہ ہوگا۔
آج کے اس ٹیکنالوجی ، انٹرنیٹ کے دور میں ہر طرح کے علوم کو پڑھنا انتہائی آسان ہو چکا ہے، لہٰذا آپ قرآن میں موجود علوم کو بھی انٹرنیٹ پر دیکھ سکتے ہیں ، آج کی نشست میں بیان کیا گیا تذکرہ ’’الجبال ، پہاڑوں‘‘ کے بارے میں ضرور گوگل پر سرچ کریں، وکی پیڈیا میں دنیا بھر کے پہاڑوں پر نظر ڈالیں اور اپنے علم میں اضافہ کریں۔
ناظرین آپ کی رائے کا انتظار رہے گا، اپنی رائے سے مجھے بذریعہ ای میل saryrang@gmail.com مطلع کریں۔
ہمارا فیس بک صفحہ www.facebook.com/saryrang ضرور لائیک کریں
بحیرہ روم اور اسکی مشہور بندرگاہیں
By: Unknown on 02:41 / comment : 0 Education, Geography, Levant, Mediterranean, Port Alexandria, Port Said, Seaports
بحیرہ روم کی تاریخ
بحیرہ روم کا جغرافیہ
لیونٹ کا علاقہ
بحیرہ روم سے ملحقہ بندرگاہیں
موجودہ بحیرہ روم کے ساتھ بائیس ممالک کی سرحدیں ملحقہ ہیں۔ ان ممالک کو آپ نقشہ میں دیکھ سکتے ہیں۔بحیرہ روم کے ان بائیس ممالک میں تقریباً ہر ایک ملک کی بندر گاہ بھی ہے، جبکہ کئی ممالک کی دو یا زیادہ بندرگاہیں بھی بحیرہ روم میں ہیں، جیسےکہ فرانس۔ مگر ہم ابھی بڑی مشہور بندرگاہوں کا تذکرہ کریں گے۔مشہور بندرگاہوں کی درجہ بندی کرنا بھی ایک مشکل کام ہے کیونکہ بندرگاہوں کی درجہ بندی میں کئی طرح کی درجہ بندی ممکن ہے، جیسے کہ مشہور ترین بندرگاہیں جو سیرو سیاحت کی وجہ سے مشہور ہیں۔ مشہور بندرگاہیں جوبحری جہازوں کے ساز وسامان کی وجہ سے مشہور ہیں۔ بہرکیف چندمشہور بندرگاہیں جو ہر طر ح کی درجہ بندی میں قابل ذکر ہیں،درج ذیل ہیں:۔اسکندریہ
اسکندریہ مصر کی مشہور ترین بندرگاہ ہے۔یہ بندرگاہ تہذیبی لحاظ سے بھی مصر کے فراعین کے زمانے سے چلی آرہی ہے۔ بہت مشہور اوراہم بندر گاہ ہے۔
مارسیلی
مارسیلی فرانس کی اہم ترین بندرگاہ اور شہر ہے۔
ایتھنز
ایتھنز کی مشہور بندگار بھی اس درجہ بندی میں شامل ہے۔ اس بندر گاہ پر سیروسیاحت اور تجارت کےسینکڑوں بحری جہاز موجود رہتے ہیں۔
آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ؟
By: Unknown on 01:08 / comment : 0 Abdul Majid Articles, Education, Muslim Youth, زندگی کا مقصد
زندگی کا مقصد، اگر صرف مرنے تک جینا، گھربار کے لیے رزق کی تلاش میں دوڑ لگانا ہو تو یہ بڑا مقصد نہیں ہے۔ مقصد عربی زبان کا لفظ ہے اور قصد سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں: کسی چیز کی طرف متوجہ ہونا‘ کسی چیز کی طرف جانا،اور اس چیز کی جستجو میں ہمہ وقت لگے رہنا۔انسان اگر اپنے مقصد کو سمجھ جائے تو پھر اسی کی طرف متوجہ اور اسی راہ پر گامزن رہتا ہے
زندگی بےمعنی اور بے مقصدبالکل نہیں ہےبلکہ زندگی کا مقصد معلوم نہ ہونے کا تعلق صرفبے علمی سے ہے۔اگر ہمیں زندگی اور مقصد،دونوں الفاظ کا علم ہی نہ ہو تو،تعین کیسے ہوگا؟۔ سادہ الفاظ میں ، اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میںجواب دوں گا، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ’’ماں کی گود سےقبر میں اترنے تک، علم کی جستجو میںلگے رہو‘‘۔لہٰذا ربی زدنی علما کی دعا کے ساتھ ہی علم کے حصول کو ہی زندگی کا مقصد بنا لیں۔
بحیرہ روم کہاں ہے اور اس سے منسلقہ ممالک اور بندرگاہوں کی تفصیل جاننے کیلئے، یہاں پڑھیں۔ دوسرے سے شئیر بھی کریں۔
جرمنی میں اعلیٰ تعلیم۔رہنمائی اور ہدایات
By: Unknown on 05:22 / comment : 0 Colleges, Education, Germany, Study In Germany, Universities
جرمن ملک کا تعارف۔ زبان،کرنسی، رہائش، ویزہ، مذہب اور کلچر وغیرہ۔
جرمنی میں موجود پاکستانی
جرمنی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے پہلے کم از کم قابلیت
بارہ سالہ تعلیم (ایف اے، ایف ایس سی یا اس کے مساوی) ہو تو کیسے اور کہاں داخلہ بھیجا جائے ؟
بیچلر اور ماسٹرز ڈگری یافتہ مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کی خاطر کہاں اپلائی کریں؟
بیچلر ڈگری (B.A., B.Sc., Bachelor of Engineering, or similar): اگر آپ کے پاس ہائر ایجوکیشن انٹرینس کوالیفیکیشن (تیرہ سالہ تعلیم) ہے تو بیچلر ڈگری کے لیے داخلہ لینا آپ کے لیے بہترین ہو گا۔ یہ جرمنی میں کروائی جانے والی پہلی تعلیمی ڈگری ہے، جسے بین الاقوامی تعلیمی مارکیٹ میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ 6 تا 8 سمسٹرز پر مشتمل اس ڈگری میں طالب علموں کو کسی بھی سبجیکٹ کے متعلق بنیادی اصول سکھائے جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ بیچلر ڈگری حاصل کرنے کے بعد آپ ملازمت یا پھر ماسٹرز ڈگری کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔ اپنے لیے موزوں بیچلر ڈگری تلاش کرنے کے لیے آپ ہمارا آرٹیکل ’’مطلوبہ یونیورسٹی اور کورسز تلاش کرنے کا طریقہ‘‘ پڑھیے۔ اِس آرٹیکل کے ذریعے آپ انڈر گریجویٹ کروائے جانے والے تمام اسٹڈی پروگراموں کی لسٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
ماسٹرز ڈگری (M.A., M.Sc., Master of Engineering, or similar): اگر آپ جرمنی سے بیچلر ڈگری ( یا اسی لیول کی پاکستان سے ڈگری) حاصل کر چکے ہیں تو آپ ماسٹرز ڈگری کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔ جرمن یونیورسٹیوں میں یہ دوسری سطح کی ڈگری ہے، جسے آپ حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر آپ ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو آپ ملازمت کے علاوہ ہائر اکیڈمک ڈگری (ڈاکٹریٹ) کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔ بیچلر ڈگری کورسز کی طرح ماسٹرز ڈگری کورسز بھی انگلش زبان میں پڑھائے جاتے ہیں اور ان میں خاص طور پر غیر ملکی طلباء کی دلچسپی کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اپنے لیے موزوں ماسٹرز ڈگری تلاش کرنے کے لیے آپ ہمارا آرٹیکل ’’مطلوبہ یونیورسٹی اور کورسز تلاش کرنے کا طریقہ‘‘ پڑھیے۔
ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) ڈگری
ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے کے بعد آپ ڈاکٹریٹ ڈگری کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔ یہ ڈگری حاصل کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہوتا ہے، اس بات کا انحصار آپ کے ریسرچ فیلڈ پر ہوتا ہے۔ عمومی طور پر تھیسس لکھنے اور ڈگری حاصل کرنے کے لیے آپ کو دو سے تین سال تک کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اس موضوع سے متعلق تفصیلی معلومات کے لیے آپ ہمارا آرٹیکل ’ڈاکٹریٹ سٹڈی اور ریسرچ‘ سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔
ضروری نوٹ: اگر آپ انگلش میڈیم کورس کے لیے اپلائی کر رہے ہیں تو اس کے لیے انگلش زبان کا سرٹیفیکیٹ (TOEFL, IELTS وغیرہ) کا ہونا ضروری ہے۔
اسی طرح اگر آپ جرمن میڈیم کورس کے لیے اپلائی کر رہے ہیں تو اس کے لیے آپ کے پاس جرمن زبان کا سرٹیفکیٹ (DSH, TestDaF) کا ہونا ضروری ہے۔
جرمنی میں بڑی جامعات کی فہرست
جرمنی میںسرکاری سطح پر تسلیم شدہ یونیورسٹیوں کی تعداد 380 سے بھی زائد ہے۔بنیادی طور پر ہم تمام جامعات کو تین درجوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ جہاں ان یونیورسٹیوں میں مجموعی طور پر 15 ہزار سے زائد تعلیمی پروگرام پڑھائے جاتے ہیں۔ہر ایک یونیورسٹی یکساں معیار رکھتی ہے لیکن انداز منفرد اورمضامین مخصوص ہیں۔ عام طور پر جرمنی میں تین اقسام کی یونیورسٹیاں ہیں۔کالج آف آرٹ، فلم اینڈ میوزک آف آرٹِسٹک کورسز
تمام یونیورسٹیوں کی تفصیل کے لئے یہاں پڑھیں۔(لنک)
ویب سائٹ کی ورڈز۔
(پاکستانی طلبا جرمنی کی جامعات میں، پاکستانی طلبا اور جرمن جامعات، جرمنی میں اعلیٰ تعلیمی رہنمائی اور ہدایات، جرمنی سٹوڈنت ویزا، جرمنی امیگریشن، جرمنی زبان)
Atlas Mountains - Morocco
By: Unknown on 03:03 / comment : 0 Africa, Atlas Mountains, Education, Geography, Morocco
اٹلس پہاڑوں کی ایک اہم خوبی یہاں کے جانور ہیں جو پوری دنیا میںاور کہیں بھی نہیںپائے جاتے ۔ان مخصوص جانوروں میں مشہور اٹلس کا ریچھ،بربرچیتا، بربربھیڑ، بربرہرن وغیرہ شامل ہیں۔
اٹلس پہاڑوں کی ارضیات اور قدرتی وسائل
ارضیات دانوں کا کہنا ہے کہ افریکہ میں زیر زمین اٹلس پہاڑ کی تہہ چار سے پانچ ارب سال پرانی ہیں۔ جبکہ موجودہ اٹلس پہاڑ کی تشکیل بہت بعد میں تین مراحل میں ہوئی تھی۔ ان تین مراحل کو بھی ہزاروں سال لگ گئے۔ ارضیات دانوں کا کہنا ہے کہ اٹلس پہاڑ کے اندر قدرتی وسائل کی وافر مقدار موجود ہے۔ اٹلس کوہ کے اندر قدرت نے بے شمار خزانے رکھ دیئے ہیں جن میں، تانبہ، چاندی، پارا، فاسفیٹ، ماربل، معدنی کوئلہ، لوہا اور قدرتی گیس شامل ہیں۔اٹلس پہاڑ کی تقسیم۔
اٹلس پہاڑوں کو مزید چار حصوں میںتقسیم کیا گیاہے، جس میں درمیانی اٹلس پٹی(مراکش)، بلند اٹلس پہاڑ(مراکش)، اٹلس پہاڑ کی مخالف پٹی (Anti Atlas)(مراکش)، اور صحارا اٹلس(الجیریا)،ٹیل اٹلس(مراکش، الجیریا)۔اٹلس پہاڑ چونکہ تین ممالک میں پھیلا ہوا ہے اورشمال مغرب میں بحر اوقیانوس سے ابتدائ کرتا ہوا مشرق میں بحیرہ روم تک جاپہنچتا ہے۔ پہاڑکی لمبائی 2،500 کلومیٹر (1،600 میل) طویل ہے۔ یہ طویل لمبائی تین افریکی ممالک میں سے گزرتی ہے جن میںمراکش، الجیریااور تیونس تک جا پہنچتی ہے۔ درمیان میں بڑے بڑے ریگستان، علاقے، اور شہر آتے ہیں۔
درمیانی اٹلس پٹی
اٹلس پہاڑ کا یہ حصہ مکمل طور پر مراکش کے سرحد میں پڑتا ہے۔پہاڑ کایہ حصہ مولویا اور قوم ال ریبا دریائوں کے بیچ میںپھیلا ہوا ہے۔
ہائی اٹلس
ہائی اٹلس کو اس کی بلندی کی وجہ سے ئہ نام دیا گیاہے۔ اٹلس پہاڑ کی یہ پٹی مغرب میں بحراوقیانوس سے ابتدائ کرتے ہوئے وسطی مراکش سے ہوتے ہوئے الجیریا کی سرحد تک چلی جاتی ہے۔اٹلس پہاڑوں میںموجود چوٹیوں میں سب سے بڑی چوٹی توبکال پہاڑ کی ہے۔ توبکال پہاڑ کی بلندی4165 میٹر ہے۔
اینٹی اٹلس پہاڑ
اس پہاڑی پٹی کو اینٹی اٹلس پہاڑاس لیے کہا جاتا ہےکہ پہاڑکی یہ پٹی بحر اوقیانوس کی جانب مراکش کے ساتھ ساتھ تقریبا 500 کلومیٹر یا 310 میل تک چلی جاتی ہے۔
صحارااٹلس۔
صحرائے صحارا چونکہ الجیریامیں ہے، اس لیے اٹلس پہاڑ کی یہ اس طرف کوصحاڑا اٹلس کہا جاتا ہے۔ الجیریا میں صحارا اٹلس کا یہ مشرقی حصہ بن جاتاہے۔
ٹیل اٹلس۔
ٹیل اٹلس کی لمبائی 1،500 کلومیٹر (930 میل) ہے.پہاڑکی یہ پٹی بحیرہ روم سے مماثل ہے اور تیونس،الجیریا سے ہوتی ہوئی مراکش تک جا پہنچتی ہے۔
مزید نقشےاور لنکس
نیچے دئیے گئے نقشوں میں دکھایا گیا ہے کہ اٹلس پہاڑ، صحارا صحرا اور افریکہ میں مراکش، الجیریااور تیونس کی سرحدیں آپس میںمل رہی ہیں۔مزید پڑھیںمراکش،گورنمنٹ کی ویب سائٹ , مزید پڑھیں مراکش، نیشن آن لائن کی ویب سائٹ
مزید پڑھیںسی آئی اے۔ ورلڈ فیکٹ بک
مزید پڑھیں
مزید پڑھیں,
سی جی آئی ٹیکنالوجی اور فلم
By: Unknown on 09:14 / comment : 0 Education, Entertainment
سائنس فکشن اور ڈرائونی فلموں میںفلمائے گئے یہ مناظر کمپیوٹر جنیریٹڈ امیجنری (CGI: Computer-generated imagery )ٹیکنالوجی سے بنائے جاتے ہیں۔
سی جی آئی (CGI ) کیا ہے ؟
سینمااور فلم بنانے والوں کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی کہ ناممکن اور تصوراتی چیزوں کو ممکن کرکے دکھایا جائے۔ جو کام یا منظر ہم اپنی روز مرہ زندگی میں نہیں کر سکتے ان کو سکرین پر دیکھنے کی خواہش ناظرین کو شدت سے رہی۔ جب کمپیوٹر کا استعمال سادہ دکھائی جانے والی فلموں میں ہونے لگا تو تصوراتی اشیاء بھی فلم کا حصہ بننے لگیں۔ یہیں پر سی جی آئی ٹیکنالوجی کا تعارف ہوا۔سی جی آئی ٹیکنالوجی دراصل کمپیوٹر گرافکس ( یا اس سے زیادہ خاص طور پر ، 3D کمپیوٹر گرافکس ) سے تصوراتی منظر کشی کی جاتی ہے جس کو بعد میں فلم کے سین کے مطابق ڈھال لیا جاتاہے۔
سی جی آئی (CGI ) کا استعمال کہاں کہاں ہوتا ہے؟
CGI ٹیکنالوجی کا استعمالفلموں ، ٹیلی ویژن پروگراموں ، ویڈیوگیمز ،اشتہارات،اور پرنٹ میڈیا میں کیاجاتا ہے۔ملٹی میڈیا میں ہر طرف 3Dگرافکس سے بنائی گئی چیزیں ہر وقت نظر آتی ہیں۔ اسی طرح ویڈیو گیمزجو مکمل ایک نئی دنیا ہوتی ہےمیں بھی دراصل کمپیوٹر گرافکس کا استعمال کیا جاتاہے۔ ہر طرح کی کارٹون بھی اسی ٹیکنالوجی کا نتیجہ ہیں۔فلموں میں نئی دنیا بسانا، ناممکن اور تصوراتی مناظر کی تصویر کشی کرنا اور فلموں کے اندر زوردار دھماکے، بڑی بڑی عمارتوں کو منہدم کردینا، کئی ہزار انسانوں کوختم کرنااسی ٹیکنالوجی کی بدولت ممکن ہواہے۔ سپر مین کا ہوا میں اڑنا اور پرانے وقتوں کی بالکل ٹھیک منظر کشی اس طرح سے کی جاتی ہے کہ دیکھنے والے تجسس اور حیرت کے ساتھ ساتھ خوشگوار یادیں سمیٹ لیتے ہیں۔
کیاایک فردیا چھوٹی فلم کمپنی سی جی آئی کا استعمال کر سکتی ہے؟
آپ کو یاد ہوگا، اسی سال پاکستانی فلم "وار "نے بڑی کامیابی حاصل کی۔ دراصل یہ فلم بھی سی جی آئی ٹیکنالوجی اور سپیشل افیکٹس سے بھر پور فلم تھی، اور یہی اس کی مقبولیت کی وجہ بن گئی۔ گویا اگر آج پاکستانی فلمیں بھی سی جی آئی ٹیکنالوجی کا استعمال کریں تو فلم انڈسٹر ی میں جان پڑ سکتی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا سی جی آئی سافٹ وئیر خریدنا آسان ہے؟
آج کل کے تیز رفتار کمپیوٹر اس قابل ہیں کہ ان پر انفرادی سطح پر بھی سی جی آئی اور سپیشل افیکٹس بنانے والے سافٹ ویئر چلائے جا سکیں۔ اس طرح چھوٹی فلم کمپنیاں اور انفرادی طور پر کام کرنے والے فنکار بھی اپنی فلموں اور کمپیوٹر گیمز میں جدت اور خوبصورتی پیدا کرسکتے ہیں۔
ی جی آئی ٹیکنالوجی(کمپیوٹر گرافکس اور3Dٹیکنالوجی ) ایسی شاندار چیز ہے کہ اس کے استعمال سے فلم بنانے والے پوری دنیا بنا لیتے ہیں۔ لوگ، جانور، پہاڑ ، دریا، خلائی مخلوق غرض تصور کی گئی ہر چیز اور سین بنایا جا سکتاہے۔
ہالی وڈ کی تما م سائنس فکشن فلمیں سی جی آئی ٹیکنالوجی ، 3Dگرافکس اور سپیشل افیکٹس کا ہی استعمال کرتی ہیں۔ ہالی وڈکی نئی ایکشن، ایڈوانچر اور سائنس فکشن فلم "ایکس مین:ڈیز آف فیوچر پاسٹ " X-Men: Days of Future Pass , اسی مہینےیعنی 23مئی 2014 کو ریلیز ہو رہی ہے۔ یہ فلم بھی سپیشل افیکٹس سے بھر پور ہے۔ فلم کا ٹریلر دیکھئے۔
X-Men - Days of Future Past Official Trailer 2 by boxofficeinternational
سیٹلائٹ سمندر کو محفوظ رکھ سکتے ہیں
یورپ کی اسپیس ایجنسی (ESA)میں یہ معاملہ زیر غور ہے کہ کس طرح سمندر کی بہتر دیکھ بھال کیلئے، اس حفاظتی نظام کو مزید بہتر بنایا جائے۔ یاد رہے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے پہلے ہی سمندری جہازوں، بندر گاہوں، غیر قانونی ماہی گیری ، سمندر میں تیل کے پھیل جانے والے مسائل اور انسانی سمگلنگ پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ سمندر کی وسعت کو مد نظر رکھتے ہوئے قریباً یہ بات ناممکن ہے کہ کوئی ایک واحد ملک اس پورے نظام کو سنبھال سکتا ہے، بلا شبہ یہ کام پوری دنیا کو ملک کر سرانجام دینا ہوگا۔اس سال کے اوئل میں یورپی اسپیس ایجنسی نے ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا تھا ۔جس میں یہ معاملہ زیر غور رکھا گیا کہ، کس طرح دنیا کے مختلف ممالک مل کر سیٹلائٹ کی بھیجی گئی اطلاعات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک قابل عمل صورتحال یہ پیش کی گئی کہ تمام بڑ ے سمندری جہاز وں پر شناخت کا مخصوص نظام موجود ہونا چاہیے،یہ شناخت سیٹلائٹ کو اطلاعات بھیجتا رہے گا اور سیٹلائٹ زمین پر موجود سٹیشن کو باخبر رکھے گا۔
باشعور سمندر نظام
امریکی کوسٹ گارڈ کے ایک رکن نے کہاکہ ’’سیٹلائٹ کے خود کار شناختی نظام سے معلومات حاصل کر کے ہم کسی علاقے کا خاکہ سکرین پر دکھا سکتے ہیں، جس میں ہر سیٹلائٹ کی حدود میں موجود تمام سمندری جہاز قابل شناخت رہیں گے۔اسی طری ۱طالوی کوسٹ گار ڈ کے کیپٹن لیوپولڈو کا کہنا ہے کہ ’’بین الاقوامی تنظیمیں اس مسئلے کو حل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
- امریکن سمندری کوسٹ گارڈ کی ویب سائٹ .یہاں کلک کریں
- نیٹو فورسز کی زیر سمندر تحقیق پر ویب سائٹ.یہاں کلک کریں
- یورپ کی سمندر حفاظتی ایجنسی کی ویب سائٹ.یہاں کلک کریں
چین میں دیوہیکل دوربین نصب
By: Unknown on 00:42 / comment : 1 China, Education, Sci-Tech
تیس فٹ بال میدانوں کے برابر اس دوربین پر 500 میٹر کا محدب عدسہ لگا ہو گا جبکہ اس کی تعمیر میں 5600 ٹن خالص سٹیل استعمال کیا جائے گا۔اس دور بین کی تنصیب 2016 تک مکمل کر لی جائے گی۔ اس کامیاب منصوبے کے سربراہ سائنس دان نان رینڈونگ نے کہا ہے کہ دور بین کا وسیع ترین قطر ہونے کے باوجود اس کے نتائج سو فیصد ہوں گے اور چھوٹے چھوٹے ذرات کو بھی واضح انداز میں دیکھا جا سکے گا۔ان کا کہنا تھا کہ 'ہم اس کی مدد سے مزید نمونوں کا معائنہ کر سکیں گے۔اور دور افتادہ سیارچوں کو جو ابھی تک ہماری نظروںسے اوجھل ہیں دریافت کر کے ان کا جائزہ لیا جا سکے گا'۔چین کی نیشنل آسٹرونومی آبزر ویٹری کے سربراہ پی ڈی کے مطابق 'ہمارا مقصد دور دراز سیاروں کا مشاہدہ کرنا ہے'۔یہ مضمون درج ذیل ویب سائٹس سے اخذ کیا گیاہے۔
عینک کے موجدپروفیسر ہیروتاکا اوساوس کے ذاتی تاثرات
عینک کے موجدپروفیسر ہیروتاکا اوساوس نے اس بارے میں کہا کہ صارف جب مصروف ہو یا اس کی توجہ کسی دوسری طرف ہو تب بھی وہ اس عینک کی مدد سے دوسروں پر اپنے جذبات ظاہر کر سکتا ہے۔پروفیسر ہیروتاکا کے مطابق یہ اساتدہ، نرسوں اور ویٹرسوں، ملازماؤں، تھیراپی دینے والوں اور دوسروں سے بہت زیادہ رابطے میں رہنے والے دیگر پیشہ ور افراد کی ضرورت بن سکتا ہے۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ترقی یافتہ معاشرے میں کارکنوں کو زیادہ سماجی ہونے کی ضرورت ہے۔
چشمے کی مزید خصوصیات
اس جدید چشمے کا مقصد صارفین کو ٹیکنالوجی کی مدد سے زیادہ سماجی خصوصیات مہیا کرنا ہے، جو بعض ایسے روبوٹوں میں پہلے سے موجود ہیں جو ہماری جسمانی مشقت کم کرنے میں ہاتھ بٹاتے ہیں، جب کہ دوسری طرف کمپیوٹر ہیں جو ہماری ذہنی سرگرمیوں میں مدد دیتے ہیں۔اس سمارٹ عینک میں دو جدید سکرینیں لگی ہوئی ہیں جو بلیو ٹوتھ کے ذریعے سمارٹ فون یا کمپیوٹر کی مدد سے کنٹرول کی جا سکتی ہیں۔ یہ کیمرے سے بھی منسلک کی جا سکتی ہیں تاکہ زیادہ وسیع ماحول کا مشاہدہ کیا جا سکے۔
سرحدوں کا غلط تعین:۔
قانون آذادی ہند 1947ءمیں یہ بات صاف طور پر لکھی گئی تھی کہ ہندو اکثریت کے علاقے بھارت کے ساتھ اور مسلم اکثریت کے علاقے پاکستان کے ساتھ ملا دیے جائیں گے لیکن عملآاس قانون کی خلاف ورزی کی گئی۔ مشرقی پنجاب کے اضلاع امرتسر، گورداسپور، فیروز پور، لدھیانہ اور ضلع لاہورتحصیل قصور جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی بھارت کو دے دیے گئے۔ اس سازش میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور لارڈ ریڈ کلف جو باؤنڈری کمیشن کا چیئرمین تھاشامل تھے۔ دوملکوںکے درمیان کسی قدرتی سرحد کے تعین کے بجائے صرف ایک لائن کھینچ دی گئی۔ حد تو یہ ہے کہ بعض دیہات آدھے پاکستان میںہیں اور آدھے بھارت میں۔نہری پانی کا مسئلہ:-
ہندوستان کی تقسیم کچھ اس طرح سے انجام پائی کہ پاکستان کی سر زمین پر بہنے والے دریاؤںاور نہروںکے دہانے ریگیولیٹرزبھارتی علاقوں میںرہ گئے۔ نہر پر باری دو آب کا ہیڈ ورکس گورداسپور میںتھاجس سے لاہور،اوکاڑہ ، ساہیوال ، ملتان کا علاقہ سیراب ہوتا تھااس کے علاوہ قصور کے بارڈر پر دریائے ستلج پر تعمیر کردہ بند بھی ہندوستان میںشامل کر دیا گیا جس کا مقصد پاکستان کو بنجر بناناتھا۔مہاجرین کی آمد:۔
پاکستان کے لئے ایک اور اہم مسئلہ مہاجرین کی آمد کا تھا۔ ہندو مسلم فسادات جو پاکستان کے اعلان سے پہلے ہی مشرقی پنجاب میں شروع تھے اعلان کے بعد تو یہ آگ اور بھڑک اٹھی۔ ہندوؤں نے مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام شروع کردیا۔ ان کی املاک کو لوٹا گیا ان کے گھر جلائے گئے۔ مسلمانوں کے لٹے پٹے قافلے پاکستان داخل ہونے لگے تو بہت سے مسائل اٹھ کھڑے ہوئے ۔ ان کی خوراک و رہائش اور ان کی آبادکاری کا مسئلہ سب سے اہم تھا۔ حکومت پاکستان نے پوری دلجمعی کے ساتھ مہاجرین کے مسائل کو حل کیا۔ ان کو بنیادی ضروریات زندگی بہم پہنجانے میں حکومت کے ساتھ ساتھ عوام نے بھی بھر پور تعاون کیا۔قائد اعظم کی وفات:-
قائد اعظم کی ذات برصغیر کے مسلمانوں کے لئے روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہے۔ قائد اعظم نے جدوجہد پاکستان سے لے کر قیام پاکستان تک انتھک محنت کی اور ان کی بے لوث قیادت نے مسلمانوں میں نئی روح پھونک دی۔ قیام پاکستان کے بعد آپ نے پہلے گورنرجنرل کی حیثیت سے ذہ داریاں سنبھالیں اور پاکستان کو درپیش مسائل سے نپٹنے کے لیے دن رات کام کیا۔ کام کی زیادتی اور مسائل کی بھر مار کی وجہ سے ان کی صحت پر برا اثرہوا۔ آپ شدید بیمار ہوگئے اور قیام پاکستان کے تقریباً ایک سال بعد خالق حقیقی سے جا ملے۔ پاکستان کو ان کی وفات سے ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔First WordPress Urdu Book "WordPress Per Website Banayen"
By: Unknown on 07:06 / comment : 57 Abdul Majid Books, Education, WordPress Urdu Book
Introduction of Book:
Name: “WordPress Per Website Banayen”
Author: Abdul Majid
Book Detail:
Book Title: "WordPress Per Website Banayen"
Subject: Website Designing / SEO
Author: Abdul Majid
Publisher: Sang-e-Meel Publications
Language: Urdu
Price: Rs. 750 /-
Cover: Hard Binding
Description:
Usage of WordPress in Pakistan:
Chapter's Detail:
The Book Contains Following 5 Chapter's
Introduction to WordPress, Basic WordPress. WordPress Installation, Dashboard, Title, Heading, Content Writing Board, WordPress plug-in, Themes, Pages and Every Thing in this area. Foundations of a WordPress-based website
- What is WordPress?
- How much does WordPress cost?
- How/where do I get WordPress?
- WordPress Hosting Options
- Installing WordPress from scratch
- Basic WordPress settings
- Basics of the WordPress User Interface
- Posts, Pages, Sidebar, Widgets, Gadgets.
Understanding the WordPress Dashboard
- Pages, Tags, Media and Content Administration
- Core WordPress Settings
- Finding and Using WordPress Plugins
- What are plugins?
- Plugin directory
- Finding and Installing Plugins Quickly and Easily
- Upgrading WordPress Plugins
- Recommended WordPress Plugins
- Working with WordPress Themes
What is a theme?
- Understanding the Structure of WordPress Themes
- Finding Themes and Choosing the Right One
- Installing and Configuring Themes
- Editing and Customizing Themes
- Using Theme Frameworks and Parent-Child Themes
- WordPress Content Management
- Understanding Posts Versus Pages
- Organizing Posts with Categories
- Connecting Posts Together with Tags
- Custom Post Types and Custom Taxonomies
- Managing Lists of Links
Creating and Managing Content
- Hands-On Training on the WordPress Editors
- Hands-On Training on the New Image Editor
- Adding Video and Audio Media to a WordPress Website
- WordPress Search Engine Optimization (SEO)
- Avoiding Black Hat SEO tactics that will get you into trouble with Google
- Managing Multimedia with WordPress
- Organizing Pictures, Videos and Downloadable Files in WordPress
- Alternatives to Using WordPress for Managing Media Online
- Using WordPress Photo Galleries
- WordPress Website Maintenance
- Updating Plugins and Themes
- WordPress Security, Securing WordPress Passwords
- Updates and Patches to Keep Your Website Secure
- Connecting Securely to Your WordPress Website
Who Can Get Benefits:
- Bloggers who want to professionally manage their blogs via WordPress
- Businessmen who want to manage their websites
- Online Store Owners who want to setup their own Online Store and Manage it
- Freelancers who want to have professional websites to represent their portfolio and get more business
- Website Owners who want to publish Google Ads and want to earn Residual / Home based Income
- House Wives who want to earn Residual / Home base Income
- Web Designers who want to develop websites quickly via WordPress
Scope & Objectives of WordPress Training:
- You will be able to Create Fully Functional WordPress based Websites
- You will be able to setup your Own Online Store
- You will be able to setup your Own Affiliate Store
- You will be able to publish Google Ads at Your Website
- You will be able to completely manage your Dynamic Website based on WordPress
- You will be able to create web portal via WordPress
Payment Procedure.
EasyPaisa:
It is very easy to buy this book, just go and pay Rs. 750. to any Easypaisa outlet throughout country (Pakistan). After transferring the amount, tell us the secrect pass code, to do this sms or Click Here to fill this form with your complete detail {Name, Email, Message & Phone No.}. After payment confirmation, we send a copy of book at your desired address.HBL Bank Account:
Labels
- Abdul Majid Articles
- Abdul Majid Books
- According to Islam
- Acropolis
- Africa
- Aircraft Carrier
- Allama Iqbal
- Article Writing
- Asteroid
- Athens
- Atlas Mountains
- Australia
- Automobile
- Ayesha Siddiqa
- Black Sea
- Blogger Tutorial
- Boat-Making
- Boeing 747-300. PIA
- Books
- Brief history
- Brisbane
- Brisbane In Urdu
- Children of Israel
- China
- China Travel
- Colleges
- Computer Virus
- CSS Tutorial
- Dr. Altaf Tahir
- Drone UAV
- Dubai
- Education
- Entertainment
- ESA
- Europe
- feature
- featured-posts
- Gen K.M Arif
- Geography
- Germany
- Greece
- Grozny
- Harvard University
- Health
- Hira Sabir
- History
- History of Pakistan
- HTML
- HTML Tutorial
- income
- Iqbal
- Islam
- Kunming
- latest
- Levant
- Liaoning
- little British
- MAKE MONEY
- Malala Yousafzai
- Maulana Tariq Jamil
- Mediterranean
- Meteor
- Morocco
- Mosque
- Muslim Youth
- My Videos
- National University California
- Novorossiysk Submarine
- Orya Maqbool Jan
- Pakistan
- PHP Tutorial
- Port Alexandria
- Port Said
- Prince George
- Profiles
- Prophet Nooh (A.S) Ki Kashiti
- Quran
- Qurat Basit
- Ramazan Aur Quran
- Religion
- Russia
- Russian
- Sary Rang
- Sci-Tech
- Seaports
- Search Engine Optimization (SEO)
- SEO
- Shilin
- Sir Thomas Brisbane
- Slider
- Softwares
- Spacecraft Rosetta
- Spirituality
- Stone Forest
- Study In Germany
- Swat Valley
- Tafheem-ul-Bashar
- Taliban
- The Ark of Noha
- Travel-Tourism
- Tutorials
- Ukraine
- Universe
- Universities
- Urdu Articles
- Urdu Books Reviews
- Urdu Columns
- USB Hidden Files
- Video Editing
- Videos
- VTOL Technology
- Web Hosting
- WordPress Tutorial
- WordPress Urdu Book
- World
- World News
- پتھر کے جنگلات
- پرنس جارج
- زندگی کا مقصد
- شہاب ثاقب

















