Slider

Menu :

Latest News

WordPress Per Website Banayen

Blogroll

Pages

Animation Trailers

top header advertisement in header

Pak Urdu Installer

Text Widget

Recent news

Video Widget

Recent Tube

Wisata

News Scroll

Favourite

Event

Culture

Gallery

Spacecraft Rosetta

ایک یورپی خلائی جہاز نے دس سال تک ایک دمدار ستارے کا تعاقب کرنے کے بعد اس کے گرد چکر لگانا شروع کر دیا ہے۔
خلائی جہاز ’روزیٹا‘ نے 67 پی چرنیوموف جیراسیمینکو نامی اس دمدار ستارے تک پہنچنے کے لیے اپنے چھ تھرسٹر چھ منٹ تک فائر کیے۔ تاہم زمین پر موجود سائنس دانوں کو 22 صبرآزما منٹوں تک معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ آیا یہ عمل کامیاب ہو گیا ہے یا نہیں۔
یورپی خلائی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ژاں ژاک دوردین نے اس موقعے پر کہا: ’منزل کی جانب دس سال، پانچ ماہ اور چار دن کے سفر، سورج کے گرد پانچ بار چکر کاٹنے اور تقریباً ساڑھے چھ ارب کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ہم بالآخر بخوشی یہ اعلان پر سکتے ہیں کہ ہم پہنچ گئے ہیں۔‘
دمدار ستارے کے چھ ارب کلومیٹر تعاقب کے دوران جہاز نے زمین اور مریخ کی کششِ ثقل کو استعمال کیا۔
جرمنی کے شہر ڈارمشٹاٹ میں واقع یورپی خلائی ادارے کے سائنس دانوں نے توانائی بچانے کے لیے روزیٹا کے انجنوں کو 31 مہینوں تک بند رکھا۔ اس سال جنوری میں جہاز کو کامیابی سے دوبارہ ’جگایا‘ گیا۔

67پی کی رفتار 55 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ اس کی مناسبت سے روزیٹا کی رفتار میں کمی لائی گئی۔
یہ دمدار ستارہ زمین سے 55 کروڑ کلومیٹر دور واقع ہے، اس لیے وہاں سے زمین تک پیغام پہنچنے میں 22 منٹ لگتے ہیں۔
روزیٹا اگلے 15 ماہ تک 67پی کے ساتھ ساتھ چلتا رہے گا اور اس دوران مختلف آلات کی مدد سے اس کا مشاہدہ کرے گا۔

زندگی کے عناصر

اس مشن سے دمدار ستاروں کے بارے میں معلومات میں خاطرخواہ اضافہ ہو گا، اور یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ نظامِ شمسی میں زندگی کے اجزائے ترکیبی کی ترسیل میں ان کا کیا کردار رہا ہے۔
جوں جوں 67پی سورج کے قریب پہنچتا جائے گا، اس کے پیچھے گیس اور دھول کا بادل بنتا جائے گا، جس سے سائنس دانوں کو اس کی ساخت کا تفصیلی مطالعہ کرنے کا موقع ملے گا۔
نومبر میں روزیٹا سے نکلنے والی ایک گاڑی 67پی پر اترنے کی کوشش کرے گی۔
یہ گاڑی برچھے استعمال کر کے اپنے آپ کو دمدار ستارے پر مضبوطی سے نصب کرے گی، اور اس دوران سطح میں برمے سے سوراخ کر کے یہ دیکھنے کی کوشش کرے گی کہ اس کی سطح کے نیچے کیا ہے۔ 67پی کو اس کی مخصوص شکل کی وجہ سے ’ربڑ کی چٹان‘ کہا جاتا ہے۔
اس مشن سے دمدار ستاروں کے بارے میں معلومات میں خاطرخواہ اضافہ ہو گا، اور یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ نظامِ شمسی میں زندگی کے اجزائے ترکیبی کی ترسیل میں ان کا کیا کردار رہا ہے۔

نیشنل یونیورسٹی آف کیلیفورنیا‬‎

واشنگٹن: ممتاز امریکی درسگاہ کیلیفورنیا یونیورسٹی نے امریکی مسلمان طالبہ سعدیہ سیف الدین کو یونیورسٹی کے گورننگ بورڈ کا رکن بنائے جانے
 پر یہودی لابی نے مخالفانہ مہم شروع کر دی۔تاکہ اس مسلمان طالبہ کو یونیورسٹی کے معتبر فورم سے دور رکھا جا سکے۔ یہودی لابی کو اعتراض ہے کہ یہ طالبہ مسئلہ فلسطین پر فلسطینیوں کی حمایت کرتی ہے۔ ایک عرب ٹی وی کے مطابق 21سالہ سعدیہ سیف الدین کیلی فورنیا یونیورسٹی کے 26 رکنی بورڈ کی پہلی مسلمان اسٹوڈنٹ رکن ہو نگی۔ وہ ایک سال کی مدت کیلیے اس منصب پر فائز رہیں گی۔ یہودی گروپ بشمول سائمن ویسنتھال سینٹر نے اس مسلمان طالبہ کی بورڈ کیلیے نامزدگی کی سخت مخالفت کی ، اسکے باوجود یونیورسٹی بورڈ کے 26 ریجنٹس میں سے 25 نے طالبہ کی نامزدگی کے حق میں ووٹ دے کر اس کے رکن بننے کی حمایت کی ہے۔


یہودی مرکز نے مسلمان طالبہ پر اعتراض کیا ہے کہ سعدیہ نے اسرائیلی فوج ، کاروباری کمپنیوں اور یونیورسٹی فنڈزسے متعلقہ معاملات کو بے نقاب کیا تھا۔ دوسری جانب سعدیہ سیف الدین کے بارے میں یہ عمومی رائے ہے کہ وہ یونیورسٹی کے تمام طلبہ و طالبات کی بہبود کیلیے مذہبی اور نسلی امتیاز سے بالا ترہو کر سرگرم رہتی ہیں۔ اسکارف اوڑھنے والی سعدیہ سیف الدین نے اپنے حق میں آنے والے 25 ووٹوں اور اپنی نامزدگی پر کہا کہ وہ اس پوزیشن کیلیے بہت پر جوش اور خوش اور خوش ہیں۔


احمد قدیر مسجد,گروزنے، روس

روس کے شہر گروزنے، کی ایک خوبصورت مسجداحمد قدیر کا خوبصورت فضائی نظارہ


ff

رمضان ،قرآن اور غور وفکر

رمضان مبارک کا محترم ، پرنور اور رحمتوں بھرا مہینہ ہم پر سایہ فگن ہے۔ اس مہینہ میں قرآن مجید کا نزول ہوا۔ اس ماہ مبارک میں تلاوت قرآن کی بہت فضیلت وارد ہوئی ہے۔قرآن مجید نے بتایا ہے کہ اس زمین پر انسان کو اتارنے سے پہلے قدرت نے بے شمار سسٹم بنائے ، پہلے کائنات کی تخلیق ہوئی ،پھر زمین پر سمندروں کا نظام ، ہواؤں کانظام ، چرند ، پرند ، نباتات ،حیوانات، مچھلیاں،بلند و بالا پہاڑ ، گرم و سرد صحرا ، گلیشئر اور سبزہ زاروغیرہ سب کچھ صرف بنی نوع انسان کے فائدے کے لیے تخلیق کیا گیا۔ 

دوران تلاوت ، ترجمہ ضرور پڑھیں


تمام ناظرین ،تلاوت قرآن فرماتے ہوئے کچھ وقت ترجمہ کو بھی دیں تاکہ اس پیغام کی طرف متوجہ ہوں جو اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے ذریعے دینا چاہتے ہیں۔ قرآن مجید کے الفاظ پڑھنا بڑی سعادت اور ثواب کی بات ہے ۔ لیکن اگر قرآن کے الفاظ کو سمجھ کر پڑھا جائے تو تدبر، غور وفکر اور فہم و فراست میں اضافہ ہوتا ہے۔ قرآن ہمیں حکم دیتا ہے کہ ’’افلا تتفکرون‘‘ تم (قرآن کی آیات میں )غور و فکر کیوں نہیں کرتے؟۔
’’افلا یتدبرون القرآن (قرآن کے اندر تدبر (سوچ بچار)کیوں نہیں کرتے ؟)ہمیں چاہیے کہ دوران تلاوت اس طرح کی آیات پر بھر پور توجہ دیں اور علمی تحقیق بھی کریں۔ 
قرآن مجید ایک الہامی کتاب ہے جو نبی آخر الزمان ﷺپر نازل ہوئی، اس دینی اور مذہبی کتاب میں انسانی فوائد کے لیے دوسرے علوم بھی بیان ہوئے ہیں۔ قرآن میں ان علوم کا واضح تذکرہ ملتا ہے جنہیں آج صرف سائنسی مضامین سمجھا جاتا ہے۔ دراصل یہ تو منشاء خداوندی ہے کہ مسلمان دنیا کی مادی حقیقت پر بھی متوجہ ہوں ۔ قرآن مجید میں ’’الجبال ‘‘ یعنی پہاڑوں کا تذکرہ ۔ 
قرآن مجید میں سات مختلف پہاڑوں کا زکر فرمایا گیا ہے۔ جن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پہاڑ یعنی کوہ طوراور کوہ سینا، جہاں پر اللہ تعالیٰ کی تجلی بھی نازل ہوئی ۔ کوہ طور اورکوہ سینا مصر و فلسطین کے درمیان پھیلے ہوئے ہیں۔ صفا و مروہ کے دو پہاڑ سعودی عرب میں موجود ہیں جن کا زکر قرآن مجید میں کیاگیا ہے۔ 

حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جس پہاڑ پر جا کر رک گئی تھی ،یعنی ’’ کوہ جودی‘‘ اس پہاڑ کا قرآن مجید میں زکر ہواہے ۔ 
قرآن مجید میں مذکور ہے کہ پہاڑوں کی مختلف اقسام ہیں اور ان اقسام میں انسانیت کے لیے طرح طرح کے فوائد رکھے گئے ہیں۔ بعض پہاڑوں سے نمک نکلتا ہے، بعض میں سے سونا، چاندی اور مختلف نباتات، معدنیات جو قدرت نے پہاڑوں میں رکھ چھوڑے ہیں۔ 
جب ہم قرآن مجید پڑھتے ہیں اور ایک آیت زیرتلاوت آتی ہے جو پہاڑ کے بارے میں ہوتی ہے تو ایک صالح دماغ خود بخود یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا زکر کیوں فرمایا؟ گویا ہمیں خود بخود سائنس کی طرف راغب ہونا پڑے گا۔ میری گزارش ہے کہ قرآن مجید میں بیان کئے گئے(سائنسی) مضامین پر بھی توجہ کریں، اس سے آپ کے علم میں اضافہ ہوگا۔ 
آج کے اس ٹیکنالوجی ، انٹرنیٹ کے دور میں ہر طرح کے علوم کو پڑھنا انتہائی آسان ہو چکا ہے، لہٰذا آپ قرآن میں موجود علوم کو بھی انٹرنیٹ پر دیکھ سکتے ہیں ، آج کی نشست میں بیان کیا گیا تذکرہ ’’الجبال ، پہاڑوں‘‘ کے بارے میں ضرور گوگل پر سرچ کریں، وکی پیڈیا میں دنیا بھر کے پہاڑوں پر نظر ڈالیں اور اپنے علم میں اضافہ کریں۔ 

ناظرین آپ کی رائے کا انتظار رہے گا، اپنی رائے سے مجھے بذریعہ ای میل saryrang@gmail.com مطلع کریں۔ 
ہمارا فیس بک صفحہ www.facebook.com/saryrang ضرور لائیک کریں

بحیرہ روم اور اسکی مشہور بندرگاہیں

بحیرہ روم کی تاریخ

میں جب بھی تاریخ کی ورق گردانی کرتا ہوں مجھے خشکی کے بعد سب سے زیادہ متاثر پانی کے اس خطے نے کیا ہے، جسے ہم بحیرہ روم یا Mediterranean Sea کے نام سے نقشوں پر دیکھتے ہیں۔ اگر غور سے دیکھیں تو انسانی تاریخ میں قبل مسیح کی تمام اور بعد کی بھی تمامتہذیبوں کے مراکز بحیرہ روم کے ساحلوں کے     ارد گرد واقع تھے۔مشہورترین تہذیبوں میں مصری تہذیب، یونانی تہذیب، ایرانی تہذیب کے بعد ایک ہزار سالہ اسلامی تاریخ بھی قابل ذکر ہے ،اس کے علاوہ تاریخ کے بڑے بڑے روشن وہ تمام نام اسی زمین کی زرخیزی کے قدآور درخت تھے جن کے کارناموں سے آج تاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔قرآن مجید میں موجود 25 انبیاء ؑ  کا بھی واسطہ اور انکےجائے مقام سےقریب ترین سمندر یہی بحیرہ روم تھا۔
دراصل بحیرہ روم انسانی تاریخ میں کشتی کی ایجاد (جو الہامی طور پر ایک پیغمبر نے بنائی تھی)کے بعد تجارت کا سب سےبڑا مرکز بن گیا۔جوں جوں انسانی آبادی بڑھی،انسان مزید زہین اور جستجو میں مصروف ہوا تونئے اورانجانے علاقوں کی تلاش، جنگ و جدل،ماہی گیری اور دیگر سمندری غذا کے حصول کے لیے بحیرہ روم کو ہی استعمال کیا گیا۔ 
ارضیات دان بحیرہ روم کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ہزاروں سال قبل یہ بھی زمین یعنی خشکی کا ایک حصہ تھا۔یہاں بھی لوگوں کی وسیع آبادی موجود تھی۔ پھر   بحر اوقیانوس کی جانب سے ایک کمزور جگہ جسے ابھی جبرالٹر (درحقیقت یہ جبل الطارق کی بگڑی شکل ہے)کہا جاتا ہے وہاں سے پانی اس خطہ میں آنا شروع ہوا اور یہ تمام علاقہ بھی چھوٹا سمندر بن گیا۔
قبل از تاریخ کی عظیم الشان تہذیبوں کا دارومدار بھی اسی سمندر کی وجہ سے تھا اور آج کی تمام بڑی طاقتوں کا مرکز بھی یہی سمندرہے۔آج کی تمام تر دنیاوی معیشت کا دارومدار بھی بڑی حد تک بحیرہ روم سے ہے۔اگر ہم غور کریں تو جاپان،چین، ملائیشیا اور انڈیا جیسے تمام بڑے بڑے ملک اپنی مصنوعات کو بحری جہازوں میں بھر کر پوری دنیا میں فروخت کرتے ہیں۔ اور سمندر کے راستوں میں سب سے زیادہ مصروف راستہ یہی بحیرہ روم کا ہے ۔ کیونکہ ان تمام ایشیائی ممالک کا  سامان سمندری جہازوں پرچلتا ہوا ،افریقہ،یورپ اور امریکہ کواسی راستہ سے پہنچتا ہے۔تمام بڑے بحری جہازاسی خطہ سے ہو کرجاتےہیں۔ایسا لگتا ہےکہ یہ بحیرہ، سمندری مخلوق سے زیادہ انسان ہی کی خدمت کرتا آیا ہے۔ 

بحیرہ روم کا جغرافیہ

بحیرہ روم مکمل طور پر زمین(خشکی) سے گھرا ہوا ایک سمندر ہے جو بحر اوقیانوس سے بہتا ہے۔بحیرہ روم کوچاروں جانب سے خشکی نے گھیر رکھا ہے۔بحیرہ روم کے شمال میں یورپ اور اناطولیہ (ترکی) کا علاقہ لگتا ہے۔ اس کے جنوب میں شمالی افریقہ کے ممالک لیبیا، تیونس،الجیریااور مراکش کی سرحدیں ہیں۔ جبکہ بحیرہ روم کامشرقی علاقہ یا سرحد جو کہ ایک لمبی پٹی (200 کلومیٹر )کو لی ونٹ کہا جاتا ہے۔لی ونٹ دراصل مشرقی بحیرہ روم کی وہ پٹی نماخشکی کی سرحد ہے جس میں اسرائیل ،اردن ،لبنان ،شام اور ترقی کا بیشتر علاقہ شامل ہے۔بحیرہ روم کی آب و ہوا گرم اور خشک ہے۔  
بحیرہ روم کا رقبہ
بحیرہ روم کا کل رقبہ ڈھائی لاکھ(2،500،000 )مربع کلومیٹرہے۔بحرالکاہل سے جبرالٹرکے درہ کی لمبائی صرف 14 کلومیٹر ہے۔ بحیرہ روم کی سب سے گہری جگہ قریباً 5،267 میٹر پیمائش کی گئی ہے۔
بحیرہ روم کے چھوٹے سمندر 
بحیرہ روم کے کل علاقے میں مزید تین چھوٹے سمندر ہیں، جو بالترتیب،مالبوران سمندر، مار مراکا سمندر، بحراسود(Black Sea)  اور آگیان مشہور ہیں۔ مزید کی فہرست یہاں دیکھیں۔(لنک)
بحیرہ روم کے جزائر
بحیرہ روم میں مشہور جزائرکا نام یہ ہے۔قبرس سسلی،سردینیا، مالٹا (اسیر مالٹا۔کن کو کہا جاتا ہے ؟) وغیرہ مشہور ہیں۔ مزید کی فہرست یہاں دیکھیں۔ (لنک)

 لیونٹ کا علاقہ

بحیرہ روم سے ملحقہ بندرگاہیں

موجودہ بحیرہ روم کے ساتھ بائیس ممالک کی سرحدیں ملحقہ ہیں۔ ان ممالک کو آپ نقشہ میں دیکھ سکتے ہیں۔بحیرہ روم کے ان بائیس ممالک میں تقریباً ہر ایک ملک کی بندر گاہ بھی ہے، جبکہ کئی ممالک کی دو یا زیادہ بندرگاہیں بھی بحیرہ روم میں ہیں، جیسےکہ فرانس۔ مگر ہم ابھی بڑی مشہور بندرگاہوں کا تذکرہ کریں گے۔مشہور بندرگاہوں کی درجہ بندی کرنا بھی ایک مشکل کام ہے کیونکہ بندرگاہوں کی درجہ بندی میں کئی طرح کی درجہ بندی ممکن ہے، جیسے کہ مشہور ترین بندرگاہیں جو سیرو سیاحت کی وجہ سے مشہور ہیں۔ مشہور بندرگاہیں جوبحری جہازوں کے ساز وسامان کی وجہ سے مشہور ہیں۔ بہرکیف چندمشہور بندرگاہیں جو ہر طر ح کی درجہ بندی میں قابل ذکر ہیں،درج ذیل ہیں:۔  
پورٹ سعید۔
بلاشبہ پورٹ سیعد بحیرہ روم کی مشہور ترین بندر گاہ ہے یہ ملک مصر  میں ہے۔
اسکندریہ 
اسکندریہ مصر کی مشہور ترین بندرگاہ ہے۔یہ بندرگاہ تہذیبی لحاظ سے بھی مصر کے فراعین کے زمانے سے چلی آرہی ہے۔ بہت مشہور اوراہم بندر گاہ ہے۔
مارسیلی
مارسیلی فرانس کی اہم ترین بندرگاہ اور شہر ہے۔ 
ایتھنز
ایتھنز کی مشہور بندگار بھی اس درجہ بندی میں شامل ہے۔ اس بندر گاہ پر سیروسیاحت اور تجارت کےسینکڑوں بحری جہاز موجود رہتے ہیں۔ 

آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ؟

کیا ہو گیا ہےپاکستانی نوجوان کو، کیااس کیپسند، ترجیح، مشغلہ اور وقت صرف کرنے کا زریعہ صرف انڈین گانے سننا، شعر و شاعر ی کرنا (sms)، یا پھر اس سیاست پر باتیں کر کے اپناقیمتی وقت ضائع کرنا، جس کا آپ حصہ نہیں اور نہ ہی کبھی کسی ادنی درجہ کے لیڈر تک کوئی رسائی ہے(بیشتر نوجوان مراد ہیں)۔

دوسری طرف وہ نوجوان ہیں جو جس جگہ نوکر(Job) ہوگئے،بس اب پنشن تک اسی کوہلوکے چکر کاٹنا ہی زندگی کا مقصد رہ گیا؟۔

وہ حضرات جو کسی بھی شعبہ سے منسلک اپنے علم اور ہنر کے استعمال سے قوم و ملک کی خدمت کر رہے وہ قابل تحسین تو ہیں مگر اپنے اوپر مزید سیکھنے، پڑھنے اور غور و فکر کے دروازے بند کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ وہ احباب جو یہ سمجھتے ہیں  یا انکی زندگی،مصروفیات اور ترجیحات کو دیکھ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی زندگی کامطمح نظر ہو کہ،اب ہمیں مزید کچھ نہیں پڑھنا،سیکھنا، سوچنا، جو ہم کر رہے ہیں‌ بس وہی کافی و شافی ہے۔

زندگی کا مقصد، اگر صرف مرنے تک جینا، گھربار کے لیے رزق کی تلاش میں دوڑ لگانا ہو تو یہ بڑا مقصد نہیں ہے۔ مقصد عربی زبان کا لفظ ہے اور قصد سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں: کسی چیز کی طرف متوجہ ہونا‘ کسی چیز کی طرف جانا،اور اس چیز کی جستجو میں ہمہ وقت لگے رہنا۔انسان اگر اپنے مقصد کو سمجھ جائے تو  پھر اسی کی طرف متوجہ اور اسی راہ پر گامزن رہتا ہے 

زندگی اور زندگی کے مقصد پر مجھے جتنے مضمون ملے وہ یا تو مذہبی انداز کے تھےیا پھر باعمل ،باہمت،اور تاریخ کے عظیم کرداروں کی زدگی کی داستان پر مشتمل تھے۔ مگر ہمارے سامنے تو پاکستانی، موجودہ، زندہ اور ہٹا کٹانوجوان اور مستقل کا سہارا ہے ، آخر اس کو زندگی کا کون سا گر سکھایا جائے کہ وہ بخوشی اسے اپنا مقصد حیات بنا لے۔ اور بنائے تو کیسے بنائے اور کرئے تو کیا کر ئے ؟

زندگی کے مقصد کے بارے میں بڑے متضاد جواب پائے جاتے ہیں، ہر صاھب علم اپنی سوچ اور سمجھ کے مطابق جواب دیتا ہے۔مگر میرے خیال میں ہمیں زندگی کے مقصد کا تعین کرتے ہوئے اپنی تخلیق کا وقت اور جگہ پیدائش ضرور زہن نشین رکھنی چاہیے۔ تاکہ ہم اس سوالی کے جواب میں یہ مدنظر رکھیں کہ وہ کس علاقے کا بانشندہ ہے اور اس کو کیا حالات و مشکلات سے واسطہ ہے۔اور اس کی زندگی کا مقصد اور ترجیحات کیا ہونی چاہییں؟ 

زندگی بےمعنی اور بے مقصدبالکل نہیں ہےبلکہ زندگی کا مقصد معلوم نہ ہونے کا تعلق صرفبے علمی سے ہے۔اگر ہمیں زندگی اور مقصد،دونوں الفاظ کا علم ہی نہ ہو تو،تعین کیسے ہوگا؟۔ سادہ الفاظ میں ، اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میں‌جواب دوں گا، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ’’ماں کی گود سےقبر میں اترنے تک، علم کی جستجو میں‌لگے رہو‘‘۔لہٰذا ربی زدنی علما کی دعا کے ساتھ ہی علم کے حصول کو ہی زندگی کا مقصد بنا لیں۔ 

 زندگی عمل کا،مسلسل چلتے رہنے، بڑھتےاور سیکھتے رہنے کا نام ہے۔ بے شک اس وقت ملک عزیز اور امت مسلمہ گھمبیر مسائل کا شکار ہے ۔ مگر ان مسائل اور مصائب سے نکالنے کے لیے یقینا،سب سے زیادہ زمہ داری نوجوان نسل پر ہیپر ہی عائد ہوتی ہے ۔ آج اگر نوجوان نسل نے اپنے اردگرد کے حالات سے بے خبری ظاہر کی تو ہمارا کل، آج سے بھی برا ہوگا۔ ہم سب کواس سلسلے میں اپنی پوری توانائیاں صرف کرنی چاہییں، بالخصوص اپنی سوچ اور علم کو وسیع ترکرنا ہوگا۔ 

دوسرے کو تلقین کرنا اور خود بیٹھے رہنااچھا نہیں، آج کا مضمون ’’بحیرہ روم اورملحقہ بندرگاہیں‘‘لکھنے کے لیے مجھے بہت کچھ پڑھنا پڑا،بحیرہ روم کا حدود اربعہ، جغرافیائی کیفیت و نشاندہی، ملحقہ ممالک کی تفصیل اور بندرگاہوں پر تحقیق کرنا پڑی۔ مشہور ویب سائٹس سے مواد لیا، اس کا ترجمہ کیا اوراپنی اس ویب سائٹ پر شائع کر دیا۔ کیوں؟

 کیوں کہ میں سمجھتا ہوں یہی وہ آخری حل سے جس سے ہماری سوچ،سمجھ،فکر، شعور میں‌بہتری آئے گی۔اوریہی ایک آخری طریقہ ہے کہ خود بھی علم کی جستجوں میں رہیں اور دوسروں کےلئے بھی مواد پیش کریں۔یہ علمی اور قلمی جہاد اس لئے بھی ضروری ہیں کہ، ہمارے نادیدہ دشمن کی پوری پوری کوشش اس جانب ہے کہ کس کس ہتھکنڈے اور غیر محسوس طریقے سے،پاکستانی نوجوان کو برین واش کیا جائے،زیادہ سے زیادہ وقت ضائع کیا جائے,اس کی ترجیحات اور خواہشات کو بدلا جائے۔

بحیرہ روم کہاں ہے اور اس سے منسلقہ ممالک اور بندرگاہوں کی تفصیل جاننے کیلئے، یہاں پڑھیں۔ دوسرے سے شئیر بھی کریں۔ 


جرمنی میں اعلیٰ تعلیم۔رہنمائی اور ہدایات

جرمن ملک کا تعارف۔ زبان،کرنسی، رہائش، ویزہ، مذہب اور کلچر وغیرہ۔

اگر آپ جرمنی جانا چاہتے ہیں تو پہلے ہم آپ کو اس ملک کا تھوڑا سا تعارف کروادیں۔ جرمنی وسطی یورپ کا ایک وفاقی پارلیمانی جمہوریہ پرمشتمل ملک  ہے۔ جرمنی کی 16 ریاستیں (صوبے) ہیں اور اس کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے برلن ہے۔جرمنی کی سرحدیں‌، ڈنمارک، سوئزرلینڈ، پولینڈ، نیدرلینڈ اور آسٹریا سے ملتی ہیں۔  تعلیمی، صنعتی، ثقافتی اور ماڈرن ٹیکنالوجی و ترقی کے لحاظ سےجرمنی بلاشبہ یورپ کا اہم ترین ملک ہے۔ اس ملک کی جامعات میں‌ہر طرح کی ایڈوانس ٹیکنالوجی پر پڑھائی ہوتی ہے اور ہر یونیورسٹی کے پاس اچھی اچھی لائبریریاں اور لبارٹریاں ہیں۔ ملک کا انٹرنیٹ کنٹر ی کوڈ de.ہے۔ جبکہ ٹیلیفون ڈائلنگ کوڈ 49 +ہے۔
جرمنی بھر کے 175 شہروں میں سرکاری سطح پر تسلیم شدہ یونیورسٹیوں کی تعداد 380 سے بھی زائدہے۔مگر پاکستانی طلبائ کی زیادہ تعداد دارالحکومتبرلن اورفرینکفر ٹ کی جامعات میں‌ہی پڑھتی ہے۔جرمنی کے پانچ بڑے اور مشہورشہر وں کی تقسیم بلحاظ آبادی کچھ یوں ہے۔ برلن جرمنی کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے۔تمام بڑی یونیورسٹیاں اور ملک بھر کے اداروں کے صدر دفاتر اسی شہر میں ہیں۔دوسرے نمبر پر ہمبرگ،مونچ تیسرے، فرینکفرٹ چوتھے جبکہ ایسین پانچویں نمبر پرہے۔ جرمنی کا جھنڈا تین رنگوں (سب سے اوپر کالارنگ، درمیان میں سرخ اور نیچے پیلا رنگ)پر مشتمل ہے۔ جرمنی کا نقشہ۔

جرمنی میں موجود پاکستانی 

جرمنی میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی رہائش پزیر ہے ۔2009 میں، جرمن حکومت نےجرمنی میں مقیم پاکستانی نژاد افراد کی تعداد کا تخمینہ  76.173 لگایا تھا۔ ان میں  47.539 افراد جرمن پاسپورٹ رکھتے ہیں، گویا وہ جرمن شہری بن چکے ہیں۔ جبکہ 28.634 افراد کے پاس پاکستانی پاسپورٹ تھے۔پاکستانیوں کی بڑی تعداد جرمنی کے مشہور شہر فرینکفرٹ، برلن اور ہمبرگ میں رہائش پزیرہے۔پاکستانی، جرمنی میںاعلیٰ تعلیم ، میڈیا، سیاست اور بزنس میں اپنی مضبوط پہچان قائم کر چکے ہیں۔پاکستانیوں کی بڑی تعداد جرمنی میں صرف 20 سال پہلے آناشروع ہوئے اس لیے تمام بڑے افراد اردو اور انگلش بولتے ہیں، جبکہ وہاں پیدا ہونے والے پاکستانیوں کے بچے جرمن زبان بڑی روانی سے بولتے ہیں۔ مزید پڑھیں>>

جرمنی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے پہلے  کم از کم قابلیت 

اگر آپ جرمنی میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس کم از کم انٹرمیڈیٹ ( FA یا FSc) کا سرٹیفکیٹ ہونا لازمی ہے یعنی آپ کی کم از کم تعلیم بارہ سال ہونی چاہیے۔
پاکستان کے کسی بھی تعلیمی ادارے یا یونیورسٹی (حکومت سے منظور شدہ) سے بیچلر یا ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے کے بعد آپ براہ راست جرمن یونیورسٹیوں کے انگلش یا جرمن کورسز میں داخلہ (ایڈمشن ) لینے کے اہل ہو جاتے ہیں ۔یہ بات یاد رہے کہ ایف اے یا ایف ایس سی کے بعد براہ راست کسی بھی جرمن یونیورسٹی میں داخلے کےلئے اپلائی کرنا ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے پہلے طلباء کو کسی کالج میں داخلہ لینا پڑتا ہے۔
دراصل جرمن تعلیمی قانون کی رُوسے پاکستانی طلباء ایف اے، ایف ایس سی یا اس کے مساوی بارہ سالہ تعلیمکے بعدبراہ راست کسی بھی جرمن یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے اہل نہیں ہوتے کیونکہ یونیورسٹی میں داخلہ کی شرط کےمطابق ،آپ کی کم از کم تعلیم تیرہ سال ہونی چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں آپ کے پاس اے لیول یا میٹرک کے بعد تین سالہ ڈپلومہ یا پھر دو سالہ بیچلر ڈگری کا ہونا لازمی ہے۔

بارہ سالہ تعلیم (ایف اے، ایف ایس سی یا اس کے مساوی) ہو تو کیسے اور کہاں داخلہ بھیجا جائے ؟

ایف اے یامساوی تعلیم چونکہ بارہ سالہ ہوتی ہے جبکہ جرمنی میں یونیورسٹی میں داخلہ  کی شرط تیرہ سالہ ہے اس لئے پہلے طلباء کو کسی جرمن کالج  میں داخلہ لے کرمزید ایک سال پڑھنا ہوگا ۔ یہ کالج، جسے جرمن زبان میں ’شٹوڈین کولیگ‘ (Studienkolleg) کہتے ہیں، یونیورسٹی کا ہی حصہ ہوتا ہے۔ اپنی سابقہ تعلیم کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کسی بھی کالج میں بیالوجی، سائنس، آرٹس یا معاشیات کے مضامین میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ کالج میں طلباء کو دو سمسٹر یعنی ایک سال تک تعلیم حاصل کرنا ہوتی ہے۔ ایک سالہ تعلیم کے بعد سالانہ امتحان لیا جاتا ہے، جسے جرمن زبان میں ’فیسٹ شٹیلنگ پروفنگ‘ (Feststellungsprüfung) کہتے ہیں۔ یہ امتحان پاس کرنے کے بعد آپ جرمنی کی کسی بھی یونیورسٹی میں داخلے کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔
اہم نوٹ: یاد رہے کہ جرمن یونیورسٹیوں کے بر عکس کالج میں تعلیم صرف جرمن زبان میں دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو ایڈمشن اور ویزہ اپلائی کرنے سے پہلے پاکستان کے کسی ادارے سے جرمن زبان کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنا ہو گی۔ جرمنی آنے کے بعد اور کالج میں باقاعدہ تعلیم کے آغاز سے پہلے آپ کو جرمن زبان کا ٹیسٹ دینا پڑتا ہے، جسے پاس کرنے کے بعد ہی آپ کالج کی کلاسوں میں بیٹھ سکتے ہیں۔ اگر آپ پہلی مرتبہ اس ٹیسٹ میں فیل ہو جاتے ہیں تو آپ کو یہ امتحان پاس کرنے کے لیے مزید دو مواقع دیے جاتے ہیں۔ اس طرح جرمن زبان کا ٹیسٹ پاس کرنے کے لیے آپ کے پاس ایک سال کا عرصہ ہوتا ہے۔جرمن کالجوں کے بارے میں آپ اس ویب سائٹ سے تفصیلی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ویب سائٹ جرمن اور انگلش دونوں زبانوں میں ہے۔

بیچلر اور ماسٹرز ڈگری یافتہ مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کی خاطر  کہاں اپلائی کریں؟

اگر آپ نے پاکستان سے بیچلر یا ماسٹرز ڈگری حاصل کرلی ہے تو آپ جرمنی کی کسی بھی یونیورسٹی میں براہ راست داخلہ لے سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں بہتر یہ ہے کہ آپ جرمن یونیورسٹیوں میں پڑھائے جانے والے انگلش میڈیم کورسز میں داخلہ لیں۔
یونیورسٹی ڈگریوں کا جائزہ
بیچلر ڈگری (B.A., B.Sc., Bachelor of Engineering, or similar): اگر آپ کے پاس ہائر ایجوکیشن انٹرینس کوالیفیکیشن (تیرہ سالہ تعلیم) ہے تو بیچلر ڈگری کے لیے داخلہ لینا آپ کے لیے بہترین ہو گا۔ یہ جرمنی میں کروائی جانے والی پہلی تعلیمی ڈگری ہے، جسے بین الاقوامی تعلیمی مارکیٹ میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ 6 تا 8 سمسٹرز پر مشتمل اس ڈگری میں طالب علموں کو کسی بھی سبجیکٹ کے متعلق بنیادی اصول سکھائے جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ بیچلر ڈگری حاصل کرنے کے بعد آپ ملازمت یا پھر ماسٹرز ڈگری کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔ اپنے لیے موزوں بیچلر ڈگری تلاش کرنے کے لیے آپ ہمارا آرٹیکل ’’مطلوبہ یونیورسٹی اور کورسز تلاش کرنے کا طریقہ‘‘ پڑھیے۔ اِس آرٹیکل کے ذریعے آپ انڈر گریجویٹ کروائے جانے والے تمام اسٹڈی پروگراموں کی لسٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
ماسٹرز ڈگری (M.A., M.Sc., Master of Engineering, or similar): اگر آپ جرمنی سے بیچلر ڈگری ( یا اسی لیول کی پاکستان سے ڈگری) حاصل کر چکے ہیں تو آپ ماسٹرز ڈگری کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔ جرمن یونیورسٹیوں میں یہ دوسری سطح کی ڈگری ہے، جسے آپ حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر آپ ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو آپ ملازمت کے علاوہ ہائر اکیڈمک ڈگری (ڈاکٹریٹ) کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔ بیچلر ڈگری کورسز کی طرح ماسٹرز ڈگری کورسز بھی انگلش زبان میں پڑھائے جاتے ہیں اور ان میں خاص طور پر غیر ملکی طلباء کی دلچسپی کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اپنے لیے موزوں ماسٹرز ڈگری تلاش کرنے کے لیے آپ ہمارا آرٹیکل ’’مطلوبہ یونیورسٹی اور کورسز تلاش کرنے کا طریقہ‘‘ پڑھیے۔
ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) ڈگری
ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے کے بعد آپ ڈاکٹریٹ ڈگری کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔ یہ ڈگری حاصل کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہوتا ہے، اس بات کا انحصار آپ کے ریسرچ فیلڈ پر ہوتا ہے۔ عمومی طور پر تھیسس لکھنے اور ڈگری حاصل کرنے کے لیے آپ کو دو سے تین سال تک کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اس موضوع سے متعلق تفصیلی معلومات کے لیے آپ ہمارا آرٹیکل ’ڈاکٹریٹ سٹڈی اور ریسرچ‘ سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔
ضروری نوٹ: اگر آپ انگلش میڈیم کورس کے لیے اپلائی کر رہے ہیں تو اس کے لیے انگلش زبان کا سرٹیفیکیٹ (TOEFL, IELTS وغیرہ) کا ہونا ضروری ہے۔
اسی طرح اگر آپ جرمن میڈیم کورس کے لیے اپلائی کر رہے ہیں تو اس کے لیے آپ کے پاس جرمن زبان کا سرٹیفکیٹ (DSH, TestDaF) کا ہونا ضروری ہے۔

جرمنی میں بڑی جامعات کی فہرست 

جرمنی میںسرکاری سطح پر تسلیم شدہ یونیورسٹیوں کی تعداد 380 سے بھی زائد ہے۔بنیادی طور پر ہم تمام جامعات کو تین درجوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ جہاں ان یونیورسٹیوں میں مجموعی طور پر 15 ہزار سے زائد تعلیمی پروگرام پڑھائے جاتے ہیں۔ہر ایک یونیورسٹی یکساں معیار رکھتی ہے لیکن انداز منفرد اورمضامین مخصوص ہیں۔ عام طور پر جرمنی میں تین اقسام کی یونیورسٹیاں ہیں۔
سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم دینے والی یونیورسٹیاں
قانون ، اقتصادیات ، تاریخ اور ریسرچ پر مشتمل یونیورسٹیاں
کالج آف آرٹ، فلم اینڈ میوزک آف آرٹِسٹک کورسز
تمام یونیورسٹیوں کی تفصیل کے لئے یہاں پڑھیں۔(لنک)

ویب سائٹ کی ورڈز۔
(پاکستانی طلبا جرمنی کی جامعات میں، پاکستانی طلبا اور جرمن جامعات،  جرمنی میں اعلیٰ تعلیمی رہنمائی اور ہدایات، جرمنی سٹوڈنت ویزا، جرمنی امیگریشن، جرمنی زبان)

Atlas Mountains - Morocco

اٹلس پہاڑدنیا بھر میں‌پھیلے مشہور ترین پہاڑوں میںسے لمبائی میں چھٹے نمبر پر ہے۔ اس کی لمبائی 2،500 کلومیٹر (1،600 میل) ہے۔ اٹلس پہاڑ کی یہ پٹی  بحر اوقیانوس یعنی شمال مغربی افریکہ سے شروع ہوتی ہے۔ افریکہ کے عظیم صحرا صحارا کو یہ اٹلس پہاڑوں کی پٹی بحیرہ روم اور بحر اوقیانوس سے الگ کرتی ہے۔

اٹلس پہاڑوں کی ایک اہم خوبی یہاں کے جانور ہیں جو پوری دنیا میں‌اور کہیں بھی نہیں‌پائے جاتے ۔ان مخصوص جانوروں میں مشہور اٹلس کا ریچھ،بربرچیتا، بربربھیڑ، بربرہرن وغیرہ شامل ہیں۔ 

اٹلس پہاڑوں کی ارضیات اور قدرتی وسائل

ارضیات دانوں کا کہنا ہے کہ افریکہ میں زیر زمین اٹلس پہاڑ کی تہہ چار سے پانچ ارب سال پرانی ہیں۔ جبکہ موجودہ اٹلس پہاڑ کی تشکیل بہت بعد میں تین مراحل میں ہوئی تھی۔ ان تین مراحل کو بھی ہزاروں سال لگ گئے۔ ارضیات دانوں کا کہنا ہے کہ اٹلس پہاڑ کے اندر قدرتی وسائل کی وافر مقدار موجود ہے۔ اٹلس کوہ کے اندر قدرت نے بے شمار خزانے رکھ دیئے ہیں جن میں، تانبہ، چاندی، پارا، فاسفیٹ، ماربل، معدنی کوئلہ، لوہا اور قدرتی گیس شامل ہیں۔ 
A short introduction of Atlas Mountains, in Urdu


اٹلس پہاڑ کی تقسیم۔

اٹلس پہاڑوں کو مزید چار حصوں میں‌تقسیم کیا گیاہے، جس میں درمیانی اٹلس پٹی(مراکش)، بلند اٹلس پہاڑ(مراکش)، اٹلس پہاڑ کی مخالف پٹی (Anti Atlas)(مراکش)، اور صحارا اٹلس(الجیریا)،ٹیل اٹلس(مراکش، الجیریا)۔

اٹلس پہاڑ چونکہ تین ممالک میں پھیلا ہوا ہے اورشمال مغرب میں بحر اوقیانوس سے ابتدائ کرتا ہوا مشرق میں بحیرہ روم تک جاپہنچتا ہے۔ پہاڑکی لمبائی 2،500 کلومیٹر (1،600 میل) طویل ہے۔ یہ طویل لمبائی تین افریکی ممالک میں سے گزرتی ہے جن میں‌مراکش، الجیریااور تیونس تک جا پہنچتی ہے۔ درمیان میں بڑے بڑے ریگستان، علاقے، اور شہر آتے ہیں۔ 

درمیانی اٹلس پٹی
اٹلس پہاڑ کا یہ حصہ مکمل طور پر مراکش کے سرحد میں پڑتا ہے۔پہاڑ کایہ حصہ مولویا اور قوم ال ریبا دریائوں کے بیچ میں‌پھیلا ہوا ہے۔

ہائی اٹلس
ہائی اٹلس کو اس کی بلندی کی وجہ سے ئہ نام دیا گیاہے۔ اٹلس پہاڑ کی یہ پٹی مغرب میں بحراوقیانوس سے ابتدائ کرتے ہوئے وسطی مراکش سے ہوتے ہوئے الجیریا کی سرحد تک چلی جاتی ہے۔اٹلس پہاڑوں میں‌موجود چوٹیوں میں سب سے بڑی چوٹی توبکال پہاڑ کی ہے۔ توبکال پہاڑ کی بلندی4165 میٹر ہے۔ 

اینٹی اٹلس پہاڑ
اس پہاڑی پٹی کو اینٹی اٹلس پہاڑاس لیے کہا جاتا ہےکہ پہاڑکی یہ پٹی بحر اوقیانوس کی جانب مراکش کے ساتھ ساتھ تقریبا 500 کلومیٹر یا 310 میل تک چلی جاتی ہے۔ 

صحارااٹلس۔
صحرائے صحارا چونکہ الجیریامیں ہے، اس لیے اٹلس پہاڑ کی یہ اس طرف کوصحاڑا اٹلس کہا جاتا ہے۔ الجیریا میں صحارا اٹلس کا یہ مشرقی حصہ بن جاتاہے۔  

ٹیل اٹلس۔ 
ٹیل اٹلس کی لمبائی 1،500 کلومیٹر (930 میل) ہے.پہاڑکی یہ پٹی بحیرہ روم سے مماثل ہے اور تیونس،الجیریا سے ہوتی ہوئی مراکش تک جا پہنچتی ہے۔

مزید نقشےاور لنکس

نیچے دئیے گئے نقشوں میں دکھایا گیا ہے کہ اٹلس پہاڑ، صحارا صحرا اور افریکہ میں مراکش، الجیریااور تیونس کی سرحدیں آپس میں‌مل رہی ہیں۔ 


مزید پڑھیںمراکش،گورنمنٹ کی ویب سائٹ ,  مزید پڑھیں مراکش، نیشن آن لائن کی ویب سائٹ
 مزید پڑھیںسی آئی اے۔ ورلڈ فیکٹ بک
مزید پڑھیں
مزید پڑھیں